شیخ حسینہ واجد کی بھانجی ٹُلیپ صدیق کو بھی قید کی سزا سنا دی گئی

برطانوی رکن پارلیمنٹ پر الزام کیا ہے؟
برطانوی رکنِ پارلیمان ٹُلیپ صدیق کو بنگلادیشی عدالت کی جانب سے دو سال قید کی سزا
ڈھاکا کی ایک عدالت نے برطانوی لیبر ایم پی ٹُلیپ صدیق کو اُن مبینہ کرپشن الزاموں میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے جن میں اُن پر اپنی سیاسی حیثیت استعمال کرتے ہوئے اپنی خالہ، معزول وزیراعظم شیخ حسینہ پر اثرانداز ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق ٹولیپ نے اپنے خاندان کو قیمتی زمینیں دلوانے کے لیے ’خصوصی اثرورسوخ استعمال کیا۔
اسی کیس میں ٹلیپ کی والدہ شیخ ریحانہ کو بھی سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور انہیں مقدمے کا مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔
تمام ملزمان جن میں حسینہ، صدیق، ریحانہ اور خاندان کے دیگر درجن بھر افراد شامل ہیں, مقدمے کی سماعت کے دوران ملک سے باہر تھے اور فیصلے کے وقت بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ چونکہ برطانیہ اور بنگلادیش کے درمیان کوئی ایکسٹراڈیشن معاہدہ موجود نہیں، اس لیے امکان ہے کہ ٹلیپ یہ سزا کاٹ نہیں پائیں گی۔
ٹُلیپ صدیق نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز اور ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد جعلی ہیں اور انہیں بنگلادیشی شہری ظاہر کر کے ٹرائل کیا گیا، حالانکہ وہ بچپن سے بنگلادیشی پاسپورٹ نہیں رکھتیں۔
برطانیہ کے ممتاز وکلا نے بھی مقدمے کو مصنوعی اور غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے بنگلادیشی سفیر سے شکایت کی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق ملزمان کو دفاع کا حق بھی نہیں دیا گیا اور ایک وکیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں ٹولیپ کی نمائندگی کرنے پر دھمکیاں دی گئیں۔
شیخ حسینہ کو گزشتہ ماہ ایک خصوصی ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں بھی سزا سنائی تھی، جب اُن پر الزام لگا کہ انہوں نے گزشتہ برس حکومت مخالف احتجاج کے شرکا کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ حسینہ اگست 2024 میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
برطانوی لیبر پارٹی نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹُلیپ صدیق کو ’’منصفانہ قانونی عمل‘‘ فراہم نہیں کیا گیا اور پارٹی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔
