آباد کو بھتہ کی شکایات مجھ سے کرنی چاہیے تھی: وزیر اعلیٰ سندھ

پولیس کو ایکشن کی ہدایت
پولیس کو آباد کی ہر شکایات پر ایکشن کی ہدایات، زمینوں پر قبضہ ختم کرانے پر اتفاق
کراچی: آباد کے وفد نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات میں شکایات کے انبار لگا دیے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کی آباد کی ہر شکایات پر ایکشن کی ہدایت کی اور کہا کہ بہترین افسران کا انتخاب کیا جائے تاکہ باہر بیٹھے بھتہ خوروں کے مرکزی کرداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔
آباد کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آباد کے عہدیداروں کو چاہیے تھا کہ بھتے کی شکایتیں وہ مجھ سے کرتے، زمینوں پر قبضے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو واضح ہدایت دے چکا ہوں کہ زمینوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔
آباد کے عہدہ داروں نے ملاقات میں کہا کہ چند ماہ پہلے وزیراعلیٰ سندھ نے قبضہ گیروں کے خلاف سخت کارروائی کی تھی، اس کے بعد انہی زمینوں پو کوئی قبضہ نہیں ہوا۔ ملاقات میں زمینوں پر پرانے قبضے ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر آباد کے وفد نے وزیراعلیٰ کو بھتے کی پرچیاں اور پرچیاں بھیجنے والوں کے نمبر دیے۔ جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر کسی نے بھتے کی پرچی دی یا کسی نے بھتہ دیا تو آپ کو وزیرداخلہ کو درخواست دینی چاہیے تھی۔ اس شہر کی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کی ترقی کے لیے حکومت آباد سمیت دیگر تاجروں کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کو آباد کی شکایت پر فوری کارروائی کی ہدایت کی، جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ جو باہر سے بیٹھ کر بھتے کے لیے فون کال کرتے ہیں اُن کے خلاف وفاقی حکومت کی مدد سے کارروائی کی جائے گی۔
ملاقا میں فیصلہ کیا گیا کہ آباد کی ہر ایک شکایت پر پولیس سخت کارروائی کرے گی۔ تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ باہر بیٹھے ہوئے بھتہ خوروں کی گرفتاری کے حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کروں گا، اس شہر سے بھتہ خوروں کو ہم نے پہلے بھی ختم کیا اور اب بھی انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
