روس کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانے کا منصوبہ

کیا یہ مشن کامیاب ہوگا؟
ماسکو: روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دس سال کے اندر چاند پر ایک نیوکلیئر پاور پلانٹ نصب کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ اقدام روس کے طویل المدتی خلائی پروگرام کا حصہ ہے اور اس کا مقصد چاند پر مستقبل کے انسانی اور تحقیقی مشنز کے لیے مستقل توانائی فراہم کرنا ہے۔
روسی خلائی ایجنسی Roscosmos اور نیوکلیئر کارپوریشن Rosatom کے تعاون سے اس منصوبے پر کام کیا جائے گا، جس میں Kurchatov انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہوگا، منصوبے کے مطابق یہ پاور پلانٹ تقریباً 2033 سے 2036 کے درمیان مکمل ہونے کی توقع ہے۔
نیوکلیئر یونٹ چاند پر روس اور چین کے مشترکہ تحقیقاتی اسٹیشن اور دیگر مشنز کو بجلی فراہم کرے گا۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ چاند پر انسانی موجودگی کو بڑھانے اور مستقل تحقیقاتی اسٹیشن قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
اس پاور پلانٹ کے ذریعے روس کو نہ صرف توانائی کی خود کفالت حاصل ہوگی بلکہ یہ مستقبل میں چاند پر طویل عرصے تک رہائش اور سائنسی تجربات کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
روس اور چین کے مشترکہ منصوبوں کے تحت یہ نیوکلیئر توانائی یونٹ چاند کی سطح پر دشوار ماحول میں مستحکم اور محفوظ بجلی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ لگانا ایک تاریخی قدم ہے اور یہ دنیا کے خلائی پروگراموں میں روس کی موجودگی کو مضبوط کرے گا۔
روس نے حالیہ برسوں میں اپنی خلائی تحقیق پر زور دیا ہے اور یہ منصوبہ اس کی عالمی خلائی حکمت عملی کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
