’’ملاؤں کو نکالو‘‘ ایران میں عوام سڑکوں پر آگئے، بڑے بڑے احتجاجات، کاروبار بند، سڑکیں بلاک

حکومت مظاہرین کو روکنے میں ناکام
تہران: ایران میں مہنگائی، بے روزگاری اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف ملک بھر میں سب سے بڑے احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے، جو 2022 کے بعد سامنے آئے ہیں۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے لگائے اور اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا۔
عوامی مظاہروں میں طلبہ، دکاندار اور نوجوان بھی شامل ہیں اور احتجاجات کے دوران تہران، اصفہان، شیراز، مشہد سمیت کئی شہروں میں دکانیں بند کروائی گئیں اور سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔
ماہرین کے مطابق مظاہرین نے نعرہ لگایا ’We want the mullahs gone‘ جس کا مطلب ہے کہ عوام اب صرف اقتصادی اصلاحات نہیں بلکہ اصولی سیاسی تبدیلی بھی چاہتے ہیں۔
حکام نے سیکیورٹی فورسز کے ذریعے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی ہے، جبکہ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی ہے، مگر عوام اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور حکومتی اقدامات پر اعتماد کا فقدان ظاہر کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے حقوق اور انسانی بنیادوں پر امداد کو یقینی بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ احتجاجات ایران میں صرف اقتصادی بحران کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ یہ ایک وسیع عوامی ناراضگی کی نمائندگی بھی ہیں، جو سیاسی اصلاحات اور حکومتی شفافیت کے مطالبات کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
