دلچسپ
سورج سے چلنے والے ’تین پاکستانی بھائی‘، رات ہوتے ہی مفلوج ہوجاتے ہیں
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025

نایاب بیماری یا قدرت کا کرشمہ؟
بلوچستان کے نواحی علاقے میاں غنڈی سے تعلق رکھنے والے تین بھائی، شعیب احمد (19 سال)، رشید احمد (17 سال) اور محمد الیاس (کم عمر)، دنیا بھر میں سولر کڈز کے نام سے مشہور ہیں۔ ان بچوں کو بچپن ہی سے ایک نہایت نایاب جینیاتی بیماری لاحق ہوئی، جس کے باعث وہ سورج غروب ہوتے ہی مفلوج ہو جاتے تھے اور سورج طلوع ہونے تک بے حرکت رہتے تھے۔ عالمی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا یونیک اور واحد ریکارڈ شدہ کیس مانا جاتا ہے۔
طبی تحقیقات کے دوران ماہرین نے ان تینوں بھائیوں میں IVD جین کی خرابی اور دماغ میں ڈوپامین کی شدید کمی کی نشاندہی کی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس بیماری میں شام ہوتے ہی دماغ کے بیسل گینگلیا میں ڈوپامین کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے، جس سے جسم کا نظام حرکت رک جاتا ہے اور مریض مفلوج کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ بھائی یہ تک محسوس نہیں کر پاتے تھے کہ رات کس طرح گزرتی ہے۔
سنہ 2016 میں اس بیماری نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے ماہرین کو دنگ کردیا تھا، بالآخر بیماری کی تشخیص کے بعد ماہرین نے ان بھائیوں کو ڈوپامین کی مخصوص دوا دینا شروع کی۔ یہ دوا رات کے لیے عارضی حرکت بحال کر دیتی ہے، لیکن اس کے اثر ختم ہوتے ہی ان کی حالت دوبارہ بگڑنے لگتی ہے۔ مستقل علاج تا حال ممکن نہیں ہو سکا۔
غربت نے ان بچوں کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ان کے والد محمد ہاشم، جو پیشے سے ایک سکیورٹی گارڈ ہیں، ادویات اور علاج کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ دو بچے اسی بیماری کے باعث پہلے ہی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ باقی تین بھائی اپنی بقا اور نارمل زندگی کی امید میں علاج کے منتظر ہیں۔
صوبائی حکومت نے تعاون کی یقین دہانی تو کروائی ہے، مگر سولر کڈز اپنے روزمرہ اخراجات اور مداوائے مرض کے لیے آج بھی عملی مدد کے منتظر ہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
