شدید سردی نے غزہ کے بچوں کی جانیں خطرے میں ڈال دیں: یونیسف کی وارننگ

بارشیں کی وجہ سے انسانی بحران مزید سنگین ہونے لگا
جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی میں شدید سردی، بارشیں اور طوفانی موسم انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں اور ہر طرف مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔
عالمی اطفال ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اس موسم کے باعث بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاکھوں بے گھر فلسطینی خاندان عارضی خیموں، بارش سے بھیگے ہوئے پناہ گاہوں اور ناقص رہائش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں شدید سردی کی وجہ سے بچوں میں ہائپوتھرمیا، سانس کی بیماریاں اور دیگر خطرناک صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یونیسیف نے عالمی برادری اور امدادی تنظیموں سے فوری مدد، گرم کپڑے، پناہ گاہیں اور طبی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ہزاروں متاثرہ بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
رپورٹس کے مطابق شدید بارشوں نے خیموں میں پانی بھر دیا ہے اور ایک آٹھ ماہ کے بچے کی ہائپوتھرمیا کے باعث موت بھی واقع ہوئی، جس سے حالات کی سنگینی واضح ہو گئی ہے۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور امدادی سامان کی کمی نے بچوں اور کمزور افراد کو سردی میں محفوظ رکھنے کے لیے درکار سہولیات تک رسائی تقریباً ناممکن کر دی ہے، اور عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
