نیشنل
پاکستان غزہ میں امن فورس بھیجنے کو تیار
StaffStaff Reporter
Nov 30, 2025

مگر حماس کے غیر مسلح کیے جانے کا حصہ بننے سے انکار
، مگر حماس کے غیر مسلح کیے جانے کا حصہ بننے سے انکار
اسلام آباد: پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے تجویز کردہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں اپنی شرکت پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، تاہم اس فورس کے ممکنہ مینڈیٹ میں شامل حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔
اسلام آباد میں ہفتے کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اصولی طور پر اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھ دیا ہے کہ کوئی بھی امن مشن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی باضابطہ منظوری کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ “غزہ میں امن فوج کی تعیناتی صرف یو این ایس سی کی واضح اجازت اور رہنمائی کے تحت ہی ممکن ہے۔”
آئی ایس ایف کے ممکنہ طور پر حماس کو غیر مسلح کرنے کے کردار پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بین السطور نہایت دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان — اور کئی دوسرے اہم ممالک — ایسی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق، ’’یہ کام فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے، کسی بیرونی فورس کا نہیں۔‘‘
وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان امن فورس میں اپنا حصہ ڈالنے کا خواہشمند ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فورس کے ٹی او آرز، مینڈیٹ، حدود اور ذمہ داریاں پہلے سے واضح ہوں۔ ’’جب تک ان نکات پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا، پاکستان کوئی حتمی فیصلہ نہیں لے سکتا،‘‘ انہوں نے کہا۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی بتایا کہ اس مجوزہ فورس کے بعض نکات پر ملائیشیا کو بھی اعتراض تھا، خصوصاً حماس کو غیر مسلح کرنے والے حصے پر، جو مسلم ملکوں میں وسیع تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
