امریکا نے بھارت سے دوریاں کیوں بڑھائیں؟ اختلافات برقرار رہے تو کیا ہوگا؟

برطانوی اخبار کی تہلکہ خیز رپورٹ
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں سرد مہری پیدا ہو گئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات تجارتی اختلافات، روس سے بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور اسٹریٹجک ترجیحات میں فرق بتائی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا رہا ہے، تاہم حالیہ پالیسی فیصلوں نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر بھارت کی جانب سے روس سے تیل اور توانائی کی مسلسل درآمدات امریکا کے لیے ایک حساس معاملہ بن چکی ہیں، جسے وہ مغربی پابندیوں کے تناظر میں ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محاذ پر بھی اختلافات گہرے ہو گئے ہیں، امریکا نے بھارتی مصنوعات پر اضافی درآمدی محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں بھارت نے بھی سخت ردعمل دیا،ان اقدامات نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو متاثر کیا اور اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا بھارت کے بعض داخلی اور خارجی پالیسی فیصلوں پر بھی مطمئن نہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم واشنگٹن اب نئی دہلی کے ساتھ محتاط فاصلہ اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختلافات برقرار رہے تو امریکا اور بھارت کے تعلقات مستقبل میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات خطے کی سیاست اور عالمی توازنِ طاقت پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
