دلچسپ/حیرت انگیز
لوگوں کو جلا کر اُن کی راکھ اور تیل طاقت کے لیے استعمال
StaffStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 8:00 PM

’جادو‘ کے لیے انسانی اعضا استعمال کرنے والے ’عامل‘: ’لوگوں کو جلا کر اُن کی راکھ اور تیل کو طاقت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے‘
چار سال پہلے کا وہ دن آج بھی سلے کالاکو کے ذہن میں تازہ ہے۔ ان کا 11 سالہ بیٹا ’پاپائیو‘ معمول کے مطابق مارکیٹ گیا تھا، جہاں وہ مچھلیاں فروخت کرتا تھا۔ مگر اس دن وہ کبھی واپس نہ آیا۔ گھر والوں نے پہلے پہل یہ سوچا کہ شاید وہ دوستوں کے ساتھ کہیں رک گیا ہو، لیکن وقت گزرتا گیا اور پاپائیو کا کوئی سراغ نہ ملا۔
دو ہفتے تک اہلخانہ نے گاؤں کے کونے کونے میں تلاش کی۔ ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر راستہ چھانا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ پھر اچانک ایک خبر آئی جس نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک کنویں سے پاپائیو کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ یہ منظر ایسا تھا کہ دیکھنے والوں کی روح کانپ گئی۔
کالے جادو کا خوفناک پہلو
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پاپائیو کو مبینہ طور پر کالے جادو کے لیے قتل کیا گیا۔ افریقہ کے کئی علاقوں میں ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جہاں معصوم بچوں کو جادو ٹونے کے نام پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاپائیو کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
ماں کی بے بسی
بی بی سی افریقہ آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سلے کالاکو نے کہا:
"میں اس وقت شدید تکلیف میں ہوں۔ اُنھوں نے میرے بچے کو مار دیا اور اس کے بعد سے خاموشی ہے۔"
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ "ہم ہمیشہ اپنے بچوں کو کہتے تھے کہ محتاط رہیں، اجنبیوں سے کچھ نہ لیں، ویرانے میں نہ جائیں۔ لیکن اس ملک میں ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں۔"
سوالات جو جواب مانگتے ہیں
پاپائیو کے قتل کو چار سال گزر گئے، مگر قاتل کون تھے؟ کیا واقعی یہ کالے جادو کے لیے کیا گیا؟ اگر ہاں، تو اس خوفناک رسم کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ اور سب سے بڑا سوال: انصاف کیوں نہیں ملا؟
یہ سوالات آج بھی گاؤں کے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔ ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ آخر ایک معصوم بچے کی جان لینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی۔
معاشرتی خوف
پاپائیو کا واقعہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ والدین اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ جب تک قاتلوں کو پکڑا نہیں جاتا، یہ خوف ختم نہیں ہوگا۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
