عالمی ایڈز ڈے: پاکستان دو دہائیوں سے HIV وباؤں کا مرکز

ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات کیا؟
اسلام آباد:عالمی ایڈز ڈے کے موقع پر پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ملک میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی مرتبہ ایچ آئی وی وباؤں کا مرکز رہا ہے، جن میں 2018ء سے اب تک چار بڑی وبائیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
حالیہ برسوں میں انفیکشن کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ان گروہوں میں جو زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، جن میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے، ہم جنس پرست مرد، قیدی، خواجہ سرا اور خواتین جنسی کارکنان شامل ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق ایچ آئی وی کے بڑھتے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں: انفیکشن کنٹرول کے ناقص طریقے، غیر منظم اور غیر محفوظ خون کی منتقلی، صحت کے شعبے میں اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی، عوامی سطح پر آگاہی کی کمی، اور غیر تربیت یافتہ طبی عملہ۔ ان انتظامی کمزوریوں نے وائرس کو کلیدی گروہوں سے آگے پھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو ملک کے لیے ایک سنگین عوامی صحت کا چیلنج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو مؤثر اور پائیدار طریقے سے روکنے کے لیے جارحانہ اور کثیر سطحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں نہ صرف ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور علاج کی صلاحیت بڑھانا شامل ہے بلکہ بنیادی سماجی اور انفراسٹرکچر سے جڑے مسائل کو حل کرنا بھی ناگزیر ہے، جو اب تک نظر انداز کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ ایڈز کا سبب بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں 2024 کے اختتام تک 4 کروڑ 8 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے تین چوتھائی افراد کو وائرس سے لڑنے کے لیے ادویات دستیاب تھیں۔ تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار افراد ایڈز سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئے۔
عالمی سطح پر ایچ آئی وی کے غیر تشخیص شدہ کیسز اور بڑھتے ہوئے انفیکشنز صحت عامہ کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک ایڈز کے خاتمے کے عالمی ہدف کو حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان میں بھی صورتحال کے پیشِ نظر ماہرین نے حکومت اور صحت کے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے، علاج کی رسائی بڑھانے، اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ایچ آئی وی کے خطرات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
