انٹرنیشنل
سعودی عرب میں مزید شراب خانے کھولنے کی تیاری
EditorStaff Reporter
Nov 29, 2025

ریاض: سعودی عرب نے اپنے معاشرتی و ثقافتی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ مملکت نے غیر ملکیوں کے لیے شراب کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق 73 سال کی مکمل پابندی کے بعد، سعودی حکومت نے پچھلے سال ریاض میں ایک شراب خانہ کھولا تھا جس میں ابتدائی طور پر صرف غیر ملکی سفارت کاروں کو شراب فروخت کی جا رہی تھی۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، اب پریمیم ریزیڈنسی پروگرام کے تحت غیر ملکی غیر مسلموں کو بھی شراب کی فروخت شروع کر دی گئی ہے۔
ایک معروف نیوز ویب سائٹ کے مطابق، سعودی حکام کا یہ اقدام غیر قانونی شراب کے کاروبار کو ختم کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی معاشرت میں شراب کی خرید و فروخت کو ایک محفوظ اور قانونی طریقے سے فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
نئے شراب خانوں کی منصوبہ بندی
سعودی عرب اب ظہران اور جدہ میں بھی نئے شراب خانوں کے قیام کی تیاری کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک ظہران میں آرامکو کے کمپاؤنڈ میں غیر مسلم ملازمین کے لیے مخصوص ہوگا، جبکہ دوسرا جدہ میں غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے قائم کیا جائے گا۔ یہ شراب خانے 2026 تک کھلنے کی توقع ہے، جس سے سعودی عرب میں شراب کی فروخت میں مزید نرمی کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کے اس فیصلے کو ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد سعودی معاشرت میں لچکدار تبدیلیاں لانا ہے۔ اس وژن کے تحت سعودی حکومت نے معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جس میں خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت، تفریحی صنعت میں سرمایہ کاری، اور اب شراب خانوں کی اجازت بھی شامل ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
