اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور، اپوزیشن میں اختلافات کی وجہ؟

اپوزیشن اراکین کے حکومت مخالف نعرے
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں ایوان نے اقلیتوں کے حقوق کا کمیشن قائم کرنے کا بل منظور کر لیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مطابق، بل کے حق میں 160 ووٹ اور مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے بھی لگائے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ قانون صرف اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہے اور قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہتے، اس لیے انہیں آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ حاصل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل ملک میں اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ہے اور اس سے قیدی نمبر 804 کو کوئی اثر نہیں ہوگا۔
وزیر قانون نے یاد دلایا کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے لیے کمیشن بنانے کی ہدایت کی تھی اور قانون میں واضح ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ انہوں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ ان کے اراکین نے بل میں ترامیم دی ہیں۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ویمن اور اقلیتیں میرا حلقہ ہیں اور ان کے حقوق کے لیے قائداعظم نے پرچم میں سفید حصہ مخصوص کیا تھا۔
اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کا نہیں، ہم ایسے قانون کی طرف نہیں جا رہے جس سے کوئی فائدہ اٹھائے۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کا مقصد یہ تاثر دینا نہیں کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے مخالف ہیں، لیکن سیکشن 35 کو ختم کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں پاس ہوا اور انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی فلڈ گیٹ نہ کھولا جائے جس سے ناموس پر حرف آئے۔
اس موقع پر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال غیرمعمولی ہے اور اہم اجلاس میں قانون سازی ہو رہی ہے مگر لیڈر آف دی اپوزیشن ایوان میں موجود نہیں تھے۔
