انٹرنیشنل
بھارت میں ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی، بل منظور
EditorStaff Reporter
Nov 29, 2025 · 10:44 AM

دس سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا جسے مسلم دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ ریاستی اسمبلی نے "آسام پروہیبیشن آف پولیگمی بل 2025" منظور کیا ہے۔ جس کے مطابق اگر کوئی شخص پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری یا تیسری شادی کرتا ہے تو یہ قابلِ سزا جرم ہوگا۔ پولیس بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گی۔
بل کے مطابق پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے تاہم پہلی بیوی سے اجازت نہ لی تو سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس جرم کی سزا زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور ساتھ ہی ایسے افراد کو سرکاری نوکری اور انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روکا جائے گا۔
اسی طرح دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو بھی 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
بل میں خواتین کے لیے معاوضے کی شق بھی رکھی گئی ہے تاکہ متاثرہ خواتین کو مالی مدد مل سکے۔ اس کے لیے ایک سرکاری ادارہ معاوضے کا تعین کرے گا۔
اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ قانون مسلم پرسنل لا کے خلاف ہے اور مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی ہے اور اس سے سماجی تقسیم بڑھ سکتی ہے۔
آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ یہ قانون خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اقدام یونیفارم سول کوڈ (UCC) کی طرف پہلا قدم ہے، جس کا مقصد سب شہریوں کے لیے یکساں شادی اور خاندانی قوانین بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہندو، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر بھی لاگو ہوگا۔
البتہ قبائلی برادریوں اور چھٹی شیڈول کے علاقوں کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
