عالمی اسلحہ ساز کمپنیوں کی فروخت 679 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

پاکستانی کرنسی میں اندازاً 190 کھرب روپے بنتی ہے
:
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور علاقائی تنازعات نے اسلحہ کی عالمی طلب میں تاریخی اضافہ کر دیا ہے۔ Stockholm International Peace Research Institute (SIPRI) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا کی ٹاپ 100 اسلحہ ساز کمپنیوں کی مجموعی آمدن 679 ارب ڈالر رہی، جو اب تک کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 190 کھرب روپے بنتی ہے — جو بہت سے ممالک کے مجموعی ملکی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔
جنگوں اور عالمی کشیدگی نے دفاعی صنعت کو مضبوط کیا
رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ، غزہ تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ اور عالمی طاقتوں کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے نے اسلحہ کی مانگ کو غیر معمولی سطح تک پہنچا دیا۔ دنیا بھر میں حکومتیں اپنی دفاعی تیاریوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں 2024 دفاعی صنعت کے لیے سب سے منافع بخش سال بن گیا۔
بڑی طاقتوں کی کمپنیوں کا دبدبہ برقرار
امریکی دفاعی صنعت سب سے آگے رہی، جس کی مجموعی فروخت 334 ارب ڈالر تک پہنچی۔
یورپی کمپنیاں 151 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں، جن میں سے بیشتر نے اپنی فروخت میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا۔
روس نے پابندیوں کے باوجود اپنی دو بڑی کمپنیوں کے ذریعے آمدن میں 23 فیصد اضافہ کیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی کمپنیوں نے نمایاں پیشرفت دکھائی، جن کی مجموعی آمدن 31 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس کے برعکس، چین کی دفاعی صنعت نے بدعنوانی اسکینڈلز اور تاخیر شدہ معاہدوں کے باعث آمدن میں کمی کا سامنا کیا۔
SpaceX کی پہلی بار فہرست میں انٹری
2024 کی رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی SpaceX پہلی بار دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہوئی۔ SpaceX نے جدید فوجی سسٹمز، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور اسپیس بیسڈ دفاعی خدمات کے ذریعے 1.8 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی — جو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے رجحان کی واضح علامت ہے۔
SIPRI کیا ہے؟
SIPRI یعنی Stockholm International Peace Research Institute سویڈن میں قائم ایک بین الاقوامی اور آزاد تحقیقاتی ادارہ ہے، جو 1966 سے دنیا بھر کے ہتھیاروں، تنازعات، فوجی اخراجات اور عالمی امن سے متعلق مستند ڈیٹا اور تجزیے فراہم کر رہا ہے۔ اس کی رپورٹیں عالمی سطح پر پالیسی سازوں اور تحقیقی اداروں کے لیے مرکزی حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
نتیجہ
2024 دفاعی صنعت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سال تھا۔ عالمی اسلحہ فروخت کا 679 ارب ڈالر — یا پاکستانی کرنسی میں تقریباً 190 کھرب روپے — تک پہنچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک نئی عسکری دوڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی فوجی سرمایہ کاری عالمی سلامتی، علاقائی سیاست اور مستقبل کے امن کے لیے اہم سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
