پاکستان میں رواں برس 10ہزار HIV کیسز رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد:پاکستان میں ہیومن امیونو ڈفی شیئنسی وائرس (HIV) کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور 2025 میں نئے انفیکشنز کی تعداد اب تک ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت ،یو این ایڈس اور پاکستان کے وزارتِ صحت کے مشترکہ اعداد و شمار نے ملکی HIV وبا کی سنگینی کو واضح طور پر بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال جنوری تا ستمبر 2025 میں پاکستان میں 10,000 سے زائد نئے HIV کیسز رجسٹر ہوئے ہیں، اور حکام کا اندازہ ہے کہ سال کے اختتام تک یہ تعداد 14,000 سے بھی بڑھ سکتی ہے، جو ملک کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے زیادہ اضافے کی علامت ہے۔
عالمی اداروں کے تجزیے کے مطابق پاکستان گزشتہ پندرہ برسوں میں HIV انفیکشنز میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھ رہا ہے، جہاں 2010 میں تقریباً 16,000 نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو 2024 تک بڑھ کر 48,000 تک پہنچ گئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں اندازاً تقریباً 350,000 افراد HIV سے متاثر ہیں، مگر 80 فیصد افراد کو اپنی بیماری کا علم تک نہیں ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بے خبری میں وائرس پھیلا رہے ہیں۔
ماہرین نے مزید بتایا ہے کہ صرف 21 فیصد افراد کو اپنا HIV status معلوم ہے، اور صرف 16 فیصد لوگ علاج حاصل کر رہے ہیں، جبکہ صرف ایک چھوٹا حصہ ہی وائرل لوڈ suppression تک پہنچا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ HIV اب صرف روایتی “ہائی رسک گروپس” تک محدود نہیں رہا بلکہ گھریلو اور عام کمیونٹی میں بھی پھیل رہا ہے، جس کی وجہ غیر محفوظ سرنجوں کا استعمال، غیر معیاری خون کی منتقلی، حمل کے دوران HIV ٹیسٹنگ کی کمی اور حفاظتی تدابیر نہ اپنانا ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور UNAIDS نے پاکستان میں HIV کے خلاف فوری اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشخیص، علاج، روک تھام اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا لازمی ہے، بصورت دیگر وبا مزید پھیل سکتی ہے۔
