پیکا ایکٹ عالمی اصولوں کے خلاف ہے: ایچ آر سی پی

پیکا ایکٹ کی ترمیمات واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے وکلاء ایمان زینب مزاری اور ہادی علی اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف درج مقدمات کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ بے بنیاد مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں اور ان کے ساتھ ہراسانی اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق نئے ترمیم شدہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ان پر مقدمات درج کرنا اظہارِ رائے اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
تنظیم نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی NCCIAکے ذریعے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ریاست کے خلاف بولنے والی آوازوں کو دبایا جا سکے۔ ایچ آر سی پی نے زور دیا کہ یہ اقدامات جمہوری حق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
ایچ آر سی پی نے اپنی یہ تشویش اپنی ویب سائٹ پر جاری پریس ریلیز کے ذریعے ظاہر کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پیکا ایکٹ کی ترمیمات کو واپس لے اور ایسے تمام مقدمات ختم کرے جو اظہارِ رائے یا انسانی حقوق کی حمایت کے لیے درج کیے گئے ہیں۔
