خیبرپختونخوا میں رواں سال 502 شہری و سیکیورٹی اہلکاردہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ رپورٹ میں انکشاف

دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات پیش آئے
پشاور: خیبرپختونخوا میں رواں سال یکم جنوری سے 14دسمںر تک ہونے والے دہشت گردی کے واقعات جانی نقصان سے متعلق پولیس رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے صوبے بھر میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 502 شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
پولیس رپورٹ میں مزید بتایا تھا ہے کہ رواں سال کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات پیش آئے،جن میں 223 شہری شہید جبکہ 570 زخمی ہوئے۔ اسی دوران 137 پولیس اہلکار شہید اور 236 زخمی ہوئے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مزید 18 اہلکار بھی موت کا شکار ہوئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق رواں سال فیڈرل کانسٹیبلری کے 124 جوان شہید جبکہ 244 زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف مختلف کارروائیوں کے دوران 348 دہشت گرد بھی مارے گئے۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے سب سے زیادہ 394 واقعات بنوں ریجن میں پیش آئے جس کے نتیجے میں 41 پولیس اہلکار شہید اور 89 زخمی ہوئے جبکہ 54 شہری شہید جبکہ 125 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں 152 دہشتگردی کے واقعات میں 137 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ل،جبکہ شمالی وزیرستان میں 181 کاررائیوں میں 38 شہری شہید اور 182 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے 103 واقعات پیش آئے، جن میں 39 شہری شہید اور 86 زخمی ہوئے۔
