کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی 10ویں روز بھی ہڑتال

بندرگاہ پر کنٹنیرز رک گئے، بحری جہازوں کی آمد و رفت بھی شدید متاثر
کراچی: کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال دسویں روز بھی جاری، جس کے باعث بندرگاہ پر کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ہڑتال کے باعث سمندری جہازوں کی آمد و رفت رک گئی، جبکہ ایک کراچی پورٹ اور دو سمندری جہاز بندرگاہ کے باہر ٹرکوں کے منتظر ہیں۔
ادھر حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ کسٹم ہائو کراچی میں دوسرے روز بھی بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے جرمانوں میں کمی اور گاڑیوں میں اضافی لوڈ سمیت دیگر مسائل میں ریلیف مانگ لیا ہے۔
دوسری طرف کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر رحمان حنیف نے حکومت سے فوری بات چیت کر کے ہڑتال ختم کرنے کا مطالبہ کردیا، جبکہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکس لوڈ کے قانون کو نافذ کرنا چاہیے، ہڑتال کی وجہ سے ایکسپورٹر اپنا کام مکمل نہیں کر سکتے، ان کی کمٹمنٹس پوری نہیں ہو پا رہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب منگو نے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے لیے اصل مسئلہ فٹنیس سرٹیفکیٹ کا ہے۔ حکومت کو ٹرانسپورٹرز کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے لیے وقت دینا چاہیے۔
