کروڑوں کے فراڈ کا الزام، بھارتی فلمساز وکرم بھٹ اہلیہ سمیت گرفتار

مقدمے کی تفصیلات سامنے آگئیں
ممبئی: بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور ہدایتکار و پروڈیوسر وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ شویتامبری بھٹ کو گزشتہ روز ممبئی سے گرفتار کر کے راجستھان کے اُدے پور لے جایا گیا، جہاں ان پر ایک بڑے مالیاتی دھوکہ دہی کے مقدمے میں کاروائی کی گئی۔
مقدمے کے مطابق وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ سمیت چھ دیگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے بانی انڈیرا گروپ آف کمپنیز ڈاکٹر اجے مردیا سے تقریباً 30 کروڑ روپے کا فراڈ کیا۔
ڈاکٹر اجے مردیا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی آنجھانی اہلیہ کی زندگی پر مبنی بائیوپک اور دیگر فلموں کے لیے سرمایہ فراہم کیا، لیکن منصوبے مکمل نہ کیے گئے اور طے شدہ منافع بھی نہیں دیا گیا۔
ابتدائی معاہدے کے مطابق مئی 2024 میں دونوں فریقین کے درمیان چار فلموں کی پروڈکشن پر 47 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا تھا۔ ابتدائی دو منصوبے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن باقی فلمیں بنائی نہیں گئیں۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مبینہ طور پر جعلی وینڈرز کے نام پر بنائی گئی دستاویزات اور بل کے ذریعے رقم نکالی گئی، جس سے شکایت کنندہ کو بھاری نقصان ہوا۔
وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پولیس نے غیر قانونی طریقے سے گرفتاری کی اور ملزمان پر دباؤ ڈال کر بغیر تاریخ و وقت کے ایک دستاویز پر دستخط کرائے۔
عدالت نے دونوں فریقین کی سماعت کے بعد وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کا ٹرانزٹ ریمانڈ 9 دسمبر تک منظور کر لیا۔ جس کے بعد انہیں راجستھان لے جایا گیا۔
