دنیا کا مہنگا ترین اسکول کہاں؟ فیس جان کر ہوش اڑ جائیں گے

تعلیم کو روشن مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، مگر دنیا میں معیاری تعلیم تک رسائی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں نجی اسکولوں کی بڑھتی فیسیں والدین کے لیے تشویش کا باعث ہیں، وہیں دنیا میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ بھی موجود ہے جسے دنیا کا سب سے مہنگا اسکول قرار دیا جاتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کا مہنگا ترین اسکول انسٹی ٹیوٹ لے روزے سوئٹزرلینڈ میں قائم ہے، جہاں دنیا کے 50 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
یہ ادارہ نہ صرف اعلیٰ نصابی تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ طلبہ کو ٹینس، شوٹنگ، گھوڑے سواری، موسیقی اور دیگر شعبوں میں عالمی معیار کی تربیت بھی دی جاتی ہے، جو اسے دنیا کے منفرد تعلیمی اداروں میں شامل کرتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ لے روزے کا قیام 1880 میں ہوا تھا اور اس کے بانی پال کارنال تھے، اس قدیم اور باوقار بورڈنگ اسکول کے دو جدید کیمپس ہیں، جن میں ٹینس کورٹس، شوٹنگ رینج، گھوڑے سواری کا مرکز اور ایک شاندار کنسرٹ ہال شامل ہے، جس کی تعمیر پر پاکستانی کرنسی میں 12 ارب روپے سے زائد لاگت آئی۔
اسکول میں طلبہ کے لیے جھیل کے کنارے محل نما عمارت، اسٹیم اور سونا رومز، جکوزی، سوئمنگ پول اور دیگر پرتعیش سہولیات موجود ہیں۔ حتیٰ کہ کھانے کے اوقات میں بھی طلبہ کے لیے مخصوص لباس کا انتظام کیا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انسٹی ٹیوٹ لے روزے کی سالانہ فیس تقریباً 1 لاکھ 33 ہزار امریکی ڈالر ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 کروڑ 72 لاکھ روپے سالانہ بنتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے اس مہنگے ترین اسکول میں ایک وقت میں صرف 280 طلبہ زیرِ تعلیم ہوتے ہیں، جن کا انتخاب دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک سے کیا جاتا ہے۔ یہاں اسپین، مصر، بیلجیم، ایران، یونان سمیت مختلف ممالک کے شاہی خاندانوں اور بااثر شخصیات کے بچے بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
