امریکا میں پیدائشی حقِ شہریت کا معاملہ، فیصلہ اب سپریم کورٹ کریگی

ٹرمپ کی درخواست سماعت کیلئے منظور
واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دائر کردہ درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر والدین غیر قانونی یا عارضی ویزے پر امریکہ میں ہیں تو ان کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت نہ دی جائے۔
یہ درخواست ٹرمپ حکومت کی جانب سے 2025 کے اوائل میں دائر کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اپنے صدراتی دور کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں یہ کہا گیا کہ غیر قانونی یا عارضی ویزے والے والدین کے بچوں کو پیدائشی شہریت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم، مختلف وفاقی عدالتوں نے اس آرڈر کو آئینی قرار نہیں دیا اور اس پر عمل درآمد روک دیا۔
سپریم کورٹ نے ابھی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم امکان ہے کہ زبانی دلائل اگلے سال کے آغاز میں سنے جائیں اور فیصلہ جون 2026 تک آ سکتا ہے۔
ٹرمپ حکومت کا موقف ہے کہ 14 ویں ترمیم کا مقصد غیر قانونی یا عارضی ویزے رکھنے والے والدین کے بچوں پر لاگو نہیں ہوتا۔
ناقدین اور شہری حقوق کی تنظیمیں اس اقدام کو آئینی اور امریکی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بچوں کے پیدائشی شہریت کے بنیادی حق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف امیگریشن قوانین کا تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور آئینی بحث بھی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف لاکھوں امریکی پیدا ہونے والے بچوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا بلکہ امیگریشن پالیسی اور انسانی حقوق کے اصولوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
