اگلی پارلیمنٹ میں عمران رکن نہیں بنے گا، بس جیل میں ہوگا: آصف زرداری نے یہ پیش گوئی کب کی تھی؟

حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات
سینئر صحافی حامد میر اپنے تازہ کالم میں ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو آصف علی زرداری نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ ’’عمران خان جس راستے پر چل رہا ہے وہ اگلی پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہو گا، بس جیل میں ہی رہے گا‘‘۔
حامد میر اپنے کالم کا آغاز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ وہ وقت تھا جب فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ آصف علی زرداری پاکستان سے چلے جائیں لیکن زرداری اپنی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان سے باہر جانے کی بجائے جیل کے اندر چلے گئے ۔ اُن پر دباؤ ڈالنے کیلئے اُنکی بہن فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ جنرل فیض نے بلاول سے کہا کہ اپنے باپ کوسمجھاؤ ہم اُسے علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دیدیں گےلیکن بلاول نے فیض کو ناں کہہ دی۔ انہی دنوں آصف علی زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا گیا۔ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس آئے۔
بلاول بھٹو زرداری انسانی حقوق کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین تھے۔ حامد میر کے بقول بلاول کے چیمبر میں ان کی زرداری صاحب سے ملاقات ہوئی، آصف زرداری نے ان سے کہا کہ میرا تو پروڈکشن آرڈر جاری ہوجاتا ہے لیکن تمہارے دوست عمران خان کا تو پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں ہوا کرے گا۔ میں نے پوچھا کہ عمران خان کا پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہو گا؟
حامد میر کے بقول زرداری صاحب نے دعویٰ کیا کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اُس پر چلتے ہوئے وہ اگلی پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہو گا بس جیل میں ہی رہے گا ۔
سینئر صحافی مزید لکھتے ہیں کہ یہ سُن کر میں نے کہا کہ کیوں نہ آپکے ساتھ ایک باقاعدہ انٹرویو ہو جائے ؟ زرداری صاحب نے کہا کہ میں تو تیار ہوں لیکن تم سوچ لو۔ میرا انٹرویو اپنے ٹی وی چینل پر نشر کر بھی سکو گے یا نہیں ؟ میں نے کچھ سوچا کیونکہ عمران خان کے دور میں ایک دفعہ مریم نواز کا انٹرویو رک چکا تھا لیکن پھر سوچا کہ زرداری صاحب ایک تجربہ کار اور محتاط سیاستدان ہیں وہ کوئی ایسی بات نہیں کرینگے جو انٹرویو روکنے کی وجہ بنے میں نے انہیں یقین دلایا کہ آپ کا انٹرویو نہیں رکے گا۔ اگلے دن میں نے اُنکا انٹرویو کر لیا ۔ شام کو جب آٹھ بجے انٹرویو نشر ہونا شروع ہوا تو کچھ دیر بعد یہ انٹرویو جیو نیوز کی اسکرین سے غائب ہو گیا ۔ یہ انٹرویو نشر ہو جاتا تو شائد اتنی بڑی خبر نہ بنتی لیکن انٹرویو کا رک جانا ایک انٹرنیشنل اسٹوری بن گئی۔
حامد میر نے دعویٰ کیا کہ پتہ چلا یہ انٹرویو فیض حمید نے رکوایا تھا ۔ کچھ عرصے کے بعد آصف علی زرداری رہا ہو گئے۔ فیض حمید ایک طرف تو جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دلوانے کیلئے اُنکی منتیں کرتا تھا دوسری طرف اُنکے کاروباری دوستوں کو تنگ بھی کرتا تھا۔ ایک دن زرداری صاحب نے فیض حمید سے دو افراد کی موجودگی میں کہا کہ اللّٰہ سے ڈرو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن تمہاری فائل میرے پاس آجائے اور تمہاری تقدیر کا فیصلہ میرے دستخط سے منسلک ہو جائے۔ فیض حمید نے بڑی رعونت کیساتھ قہقہہ لگایا اور کہا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ آج آصف علی زرداری صدر پاکستان ہیں اور فیض حمید ایک سزا یافتہ مجرم ہے۔
