خصوصی اسٹوریز
سفید ربڑ سے بننے والے ’ٹائر‘ کالے کیوں ہوتے ہیں؟
EditorStaff Reporter
Nov 27, 2025

سفید ربڑ کہاں سے آتا ہے؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب گاڑیاں مختلف رنگوں میں دستیاب ہوتی ہیں تو ٹائر ہمیشہ کالے ہی کیوں ہوتے ہیں؟
حیران کن حقیقت یہ ہے کہ اصل میں جس ربڑ سے ٹائر بنایا جاتا ہے، دودھیا سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ ٹائر بنانے کے لیے جو قدرتی ربڑ استعمال ہوتا ہے وہ ایک خاص درخت سے حاصل کیا جاتا ہے جس کا نام ہے Hevea brasiliensis۔
اس کے علاوہ مصنوعی ربڑ بھی ٹائر بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جو پٹرولیم کیمیکلز سے تیار کیا جاتا ہے۔ آج کل زیادہ تر ٹائر قدرتی اور مصنوعی ربڑ کے امتزاج سے بنتے ہیں۔
سفید ٹائر کی بجائے کالا ٹائر کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
اس کا سائنسی جواب یہ ہے کہ اگر ٹائر سفید رہتے تو وہ زیادہ دیر تک نہ چل پاتے اور دھوپ یا گرمی میں جلد خراب ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں نے ایک خاص کیمیائی مادہ کاربن بلیک دریافت کیا، جو ربڑ میں شامل کرنے سے نہ صرف رنگ کو کالا کر دیتا ہے بلکہ ٹائر کو کئی گنا زیادہ مضبوط بھی بنا دیتا ہے۔
کاربن بلیک ٹائر کے اندر گرمی کو جذب کر کے اسے یکساں طور پر پھیلا دیتا ہے، جس سے ٹائر زیادہ دیر تک ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ مادہ ٹائر کو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں اور اوزون کے نقصان دہ اثرات سے بھی بچاتا ہے۔ اگر یہ حفاظتی تہہ نہ ہو تو ٹائر جلدی پھٹ جائیں اور گاڑی چلانا خطرناک ہو جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کاربن بلیک ٹائر کو نہ صرف مضبوط بناتا ہے بلکہ ڈرائیور کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹائر ہمیشہ کالے ہی تیار کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ کمپنیاں رنگین ٹائر بنانے کی کوشش کر چکی ہیں، لیکن وہ زیادہ دیر تک کارآمد ثابت نہیں ہوئے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ٹائر کا سیاہ رنگ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ سائنس اور حفاظت کا راز ہے۔ اگلی بار جب آپ سڑک پر گاڑی دوڑائیں تو یاد رکھیں کہ یہ کالا رنگ ہی ہے جو آپ کو سفر کے سفر کو محفوظ بناتا ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
