گھوٹکی میں PTIرہنما کی شوگر ملز کو پولیس نے بند کردیا، لیکن کیوں؟ ہوشربا انکشاف

کاشتکار سراپا احتجاج
سندھ کے علاقے گھوٹکی میں پولیس نے گنے کی کرشنگ شروع کرنے والی پی ٹی آئی رہنما کی شگر ملز بند کردی، آبادگاروں کے گنے کے ٹرک واپس بجھوا دیے گئے۔ کاشتکار سراپا احتجاج بن گئے۔
شگر ملز کس کی ہے، کیوں بند کی گئی؟
گھوٹکے کے علاقے اوباوڑو میں پولیس نے پی ٹی آئی رہنما خسرو بختیار کی شگر ملز کو بند کردیا، دو روز سے شگر ملز کا گیٹ بند کرکے پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ ان کو اوپر سے شگر ملز بند کرنے کے آرڈرز ہیں۔ جبکہ شگر ملز انتظامیا کا کہنا ہے کہ پولیس کیجانب سےمل کو بند کرنے کا کوئی سبب نہیں بتایا جا رہا تھا۔ حالانکہ اس شگر ملز نے 28 نومبر کو گنے کی کرشنگ شروع کی تھی۔
کاشتکار سراپا احتجاج
اوباڑو شگر ملز میں کرشنگ شروع ہوتی ہی گنے کے کاشتکاروں میں خوشی لہر دوڑ گئی، جنہوں نے گنے کی کٹائی شروع کردی لیکن جب گنا شگر ملز تک پہنچا تو مل کو ہی بند کردیا اور گنے سے لدے ٹرکس واپس کردئے۔
کاشتکاروں نے تیسرے روز بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس گنے سے لدی گاڑیاں شگر ملز کے اندر جانے نہیں دے رہی، سندھ میں صرف چند شگر ملز نے کرشنگ شروع کی ہے، جس میں اوباوڑو شگر ملز بھی شامل ہے۔ یہ شگر مل سرکاری نرخوں سے بھی زائد نرخوں پر گنا خرید کرتی ہے۔ گنے کے سرکاری نرخ 420 روپے فی من ہے، جبکہ اوباڑو شگر ملز کیجانب سے 450 روپے فی من دیے جاتےہیں۔ ایسے میں شگر مل کو بند کرنا گھوٹکی اور رحیم یار خان کے کاشتکاروں کا معاشی قتلام کرنے کے مترادف ہے۔
علاقہ مکینوں کا دعویٰ
اوباڑو کے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسی تعلقہ میں ایک بااثر ترین شخصیت نے دوسری شگر ملز قائم کردی گئی ہے، جو کہ ممکنہ طور پر جنوری 2026ع سے فعال ہوجائے گی۔ خدشہ ہے کہ اس شگر ملز کو فعال کرنے کے لیے اوباوڑو شگر ملز کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ کابینا نے 15 نومبر سے شگر ملز میں کرشنگ سیزن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم پنجاب کے مقابلے میں حکومت سندھ شگر ملز کو کرشنگ کے لیے پابند بنانے میں ناکام رہی۔ مشکل سے مٹیاری اور اوباوڑی شگر ملز نے کرشنگ شروع کی تھی، لیکن پولیس کے ذریعے اوباڑو شگر ملز کو بھی بند کرادیا۔
