سکھر کے قریب جھیل سے ملنے والی عجیب و غریب ’مچھلی‘ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے

یہ انوکھی مچھلی آئی کہاں سے ؟
کراچی: 4 جنوری 2026 کو سکھر کے قریب جھیل سے کراچی فش ہاربر پر ایک عجیب و غریب شکل والی مچھلی ملی ہے، جسے ایلین قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ کیونکہ کوئی بھی اس کی شناخت نہیں کرسکا
مچھلی کا جسم ہڈیوں کی پلیٹوں سے ڈھکا ہوا ہے، جبکہ غیر ملکی نسل کی یہ مچھلی حادثاتی طور پر قدرتی آبی ذخائر میں داخل ہو گئی ہے۔

ایمیزون سیلفین کیٹ فش کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے اور یہ دنیا بھر میں ایکویریم مچھلی کے طور پر مشہور ہے۔ یہ نسل ایک انتہائی کامیاب حملہ آور کے طور پر جانی جاتی ہے اور چونکہ یہ نسل اب پاکستان میں بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، اس لیے اس کا خاتمہ اور کنٹرول ناممکن ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف حکام کے مطابق یہ مچھلیوں کی ان 26 انواع میں سے ایک ہے، جو حادثاتی طور پر یا جان بوجھ کر پاکستان میں متعارف کرائی گئی ہیں، اس فہرست میں شامل مچھلیاں پاکستان کی آبی حیاتیاتی تنوع پر نقصان دہ اثرات مرتب کر رہی ہیں اور ماحولیاتی نظام کے نازک توازن اور کام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

براؤن ٹراؤٹ اور رینبو ٹراؤٹ پہلی دو غیر ملکی مچھلیوں کی انواع تھیں جو 1928 میں پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں متعارف کرائی گئیں۔ مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے اور پاکستان میں ناپسندیدہ جڑی بوٹیوں پر قابو پانے کے لیے، مچھلی کی کئی غیر ملکی انواع جن میں موزمبیق تلپیا، کامن کارپ، گولڈ فش، اور گراس کارپ شامل ہیں، ان سب کو متعارف کرایا گیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ ان تمام انواع نے پاکستان میں قدرتی ماحولیاتی نظام میں بھی خود کو قائم کیا ہے، جس سے دیگر حیوانات اور نباتات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان تمام نسل کی افزائش کا مقصد آبی زراعت کی پیداوار کو بڑھانا تھا۔ لہذا، ماحول پر ان کے منفی اثرات پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ٹراؤٹس کے ان تعارفوں نے آبی حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔
