نیشنل
سندھ میں شوگر ملز نے کرشنگ شروع کیوں نہیں کی؟ سندھ ہائی کورٹ نے حکام کو طلب کرلیا
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025 · 11:43 AM

کاشت کاروں کو کروڑوں کے نقصان کا خدشہ
کراچی: سندھ ہائی کورٹ کی آئینی بینچ نے سیزن شروع ہونے کے باوجود شوگر ملز نہ چلانے کے خلاف گنے کے کاشتکاروں کی جانب سے درخواست پر سماعت کی، کاشتکاروں نے عدالت میں کہا کہ 15 نومبر کو شوگر ملز کو چلنا تھا، لیکن آج 28 نومبر تک شوگر ملز بند پڑی ہیں، ملز بند ہونے سے گنا گل سڑ رہا ہے، گنے کی کٹائی نہ ہونے سے گندم کی کاشت تک نہ ہو سکی، سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔
درخواستگذاروں کے وکلا کے دلائل کے بعد عدالت نے سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کر لیا، جبکہ درخواست کی 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے سندھ کابینہ نے 20 نومبر کو فیصلہ کیا کہ 15 نومبر کو کرشنگ شروع کی جائے، کابینا نے متنبہ کیا کہ 30 نومبر سے قبل کرشنگ شروع کی جائے۔ تاہم کابینا کے فیصلے کے باوجود سندھ میں 28 میں سے تاحال صرف دو مٹیاری اور سانگھڑ شوگر ملز نے کرشنگ شروع کی ہے۔ جبکہ گھوٹکی کی کی پانچ میں سے صرف ایک شوگر فیکٹری نے کریشنگ شروع کی ہے۔
زرعی محکمہ کے ایک افسر کے مطابق، شوگر فیکٹریاں فی الحال کسانوں سے گنے کی خریداری کے لیے فی 40 کلوگرام 400 روپے دینے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔ یہ قیمت موسم کے دوران بڑھ سکتی ہے، جو پیداوار پر منحصر ہے۔
اطلاعات کے مطابق دو درجن سے زائد شوگر فیکٹریوں نے اپنے بوائلرز جلادیے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ جلد کریشنگ کا آغاز کریں گی۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
