ایشیائی ممالک میں قدرتی آفات کی تباہ کاریاں، سیکڑوں ہلاکتیں

لاکھوں افراد بے گھر
ایشیائی ممالک میں حالیہ قدرتی آفات نے ڈیڑھ ہزار سے زائد جانیں لے لیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔
گزشتہ ہفتے ایشیائی خطے میں شدید بارشوں، سمندری طوفانوں اور لینڈ سلائیڈز نے تباہی مچا دی۔ سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں مجموعی طور پر 1,000 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے۔
سری لنکا
ملک بھر میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈز کے نتیجے میں 355 افراد ہلاک اور 366 لاپتا ہوئے۔ کولمبو سمیت کئی شہروں میں گھروں کے اندر پانی بھر گیا اور ہزاروں خاندان پھنس گئے۔
انڈونیشیا
انڈونیشیا میں سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان سوماترا میں ہوا، جہاں 502 افراد ہلاک اور 508 لاپتا ہیں۔ پل گرنے، سڑکیں بند ہونے اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے امدادی کارروائیاں مشکل ہو گئیں۔
تھائی لینڈ
ملک کے جنوبی صوبوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ ہیٹ یائی اور سونگکھلا میں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ملائیشیا
ملک کے شمالی حصے میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈز کے باعث ہزاروں افراد کو ہنگامی طور پر نکالا گیا۔
انڈونیشیا کے متاثرہ علاقوں میں تین جنگی جہاز، دو اسپتال جہاز اور کئی طیارے امداد کے لیے بھیجے گئے۔
سری لنکا اور انڈونیشیا دونوں نے فوجی دستے متاثرہ علاقوں میں تعینات کیے تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جا سکے اور خوراک و ادویات پہنچائی جا سکیں۔
تھائی لینڈ میں بحریہ نے ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور 14 کشتیوں کے ذریعے امدادی سامان اور طبی سہولتیں فراہم کیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تباہ کاریاں صرف عام مون سون بارشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشیں اور طوفان پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم نے بارشوں کو ٹربو چارج کر دیا ہے، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کی شدت بڑھ گئی ہے۔
