عمران خان کی اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقلی کا معاملہ، حکومت کا بڑا بیان سامنے آگیا

پی ٹی آئی سے اب کبھی مذاکرات نہیں ہوں گے؟
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے کسی اور جگہ منتقلی کی خبریں گزشتہ روز سے گرم ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی لیکن اب حکومت کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے آیا۔
اس کے علاوہ جیل ذرائع نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے کے امکان کو مسترد کریا ہے، جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے منتقلی کی خبریں قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں، وہ اڈیالہ جیل میں موجود ہیں ان کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
جیل ذرائع نے بتایاکہ پمزاسپتال کے 5 رکنی ڈاکٹرزکی ٹیم نے حال ہی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، وہ مکمل صحت مند ہیں، سکیورٹی اور کھانے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
عمران خان کی جیل سے منتقلی پر حکومت کا موقف

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج کی صورت میں حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے، بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاسکتا، ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی لیکن عمران خان کے اپنے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہوئی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو چاہے کہ اڈیالہ کے باہر امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں، اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالا کےقریب احتجاج کریں گے تو اس صورت میں حکومت عمران خان کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور عمران خان 9 مئی اوراپنے بیانات سےلاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت کریں، ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے، اگر عمران خان اپنے بیانات پرقائم رہتے ہیں توڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ بلاول کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے، بلاول نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے، ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔
