کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھنے سے خوراک کم غذائیت والی ہو گئی: ماہرین نے خبردار کردیا

پیرس: نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ CO₂ کی بڑھتی مقدار زمین پر اگنے والی خوراک کی غذائیت کو کم اور کیلوریز کو بڑھا رہی ہے، جس سے مستقبل میں عالمی غذائی تحفظ اور صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق CO₂ کی بڑھتی سطح کی وجہ سے فصلوں کی نمو تو تیز ہو رہی ہے، مگر ان میں اہم غذائی اجزاء جیسے پروٹین، زنک اور آئرن کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو رہی ہے، مثال کے طور پر، چنے جیسے غذائی پودوں میں زنک کی مقدار 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خوراک کی کیلوریز کی مقدار بڑھ رہی ہے، مگر ضروری وٹامنز اور منرلز کی کمی کے باعث لوگ “چھپی ہوئی بھوک” کا شکار ہو سکتے ہیں، یعنی توانائی تو ملے گی لیکن صحت مند نشوونما اور قوت مدافعت کے لیے ضروری غذائی اجزاء کی کمی رہے گی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف غذائی معیار میں کمی نہیں بلکہ عالمی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور موٹاپے اور غذائی قلت دونوں مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی طریقوں، بیجوں کی اقسام اور غذائی پالیسیوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ غذائی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
