کینسر اور فالج کی تشخیص میں AIکا انقلابی کردار

حالیہ سائنسی مطالعات نے تصدیق کی ہے کہ مصنوعی ذہانت AI طبی تشخیص، خاص طور پر کینسر اور فالج کی ابتدائی شناخت اور مریضوں کے نتائج کی پیش گوئی میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہی ہے۔
متعدد تحقیقاتی مطالعے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ AI ماڈلز انسانی ماہرین کے مقابلے میں زیادہ تیزی اور بعض اوقات زیادہ درست طریقے سے کینسر کی علامات کو پہچان سکتے ہیں۔
بریسٹ کینسر
سویڈن میں کی گئی ایک تحقیق نے ثابت کیا کہ AI چھاتی کے کینسر کی تصاویر (میموگرام) سے درست تشخیص کر سکتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق، AI نے ریڈیالوجسٹ کے مقابلے میں ابتدائی بریسٹ کینسر کا پتہ لگانے میں 91 فی صد درستگی حاصل کی، جبکہ ریڈیالوجسٹ کی درستگی 74 فی صد تھی۔
جلد کا کینسر
محققین نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ AI جلد کے کینسر کی تشخیص میں ماہر امراض جلد کے مقابلے میں زیادہ درست نتائج دے سکتی ہے۔
AI ریڈیالوجسٹ کے معمول کے کاموں کو خودکار بناتی ہے، جس سے انہیں زیادہ پیچیدہ کیسز اور مریضوں کی مشاورت پر توجہ دینے کے لیے وقت ملتا ہے۔
فالج کی تشخیص اور علاج میں پیش رفت
فالج کی صورت میں وقت کی اہمیت بنیادی ہے، اور AI یہاں بھی فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہے۔AI پر مبنی نظاموں نے فالج کی تشخیص کے وقت کو نمایاں طور پر کم کیا ہے، جس سے مریضوں کو جلد علاج ملنے میں مدد ملتی ہے۔
امپیریل کالج لندن Imperial College London کے محققین کی تیار کردہ نئی AI نے فالج کے دماغی اسکینز کو پڑھنے میں موجودہ طریقوں کے مقابلے میں دوگنی درستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ سافٹ ویئر ڈاکٹروں کو فالج کے وقت اور علاج کی صلاحیت کا زیادہ درست اندازہ لگانے میں مدد کرتا ہے۔
تشخیصی امیجنگ کے علاوہ، AI الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز (EHRs) اور دیگر طبی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے تاکہ مریضوں کے ممکنہ نتائج اور علاج کے ردعمل کی پیش گوئی کی جا سکے۔ یہ ذاتی نوعیت کے علاج کے منصوبے بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت صحت کی دیکھ بھال میں کارکردگی اور درستگی کو بہتر بنا رہی ہیں، لیکن ماہرین زور دیتے ہیں کہ حقیقی دنیا کے طبی ماحول میں ان ٹیکنالوجیز کی مکمل جانچ اور ریگولیٹری نگرانی اب بھی ضروری ہے۔
