نیشنل
سندھ پبلک سروس کمیشن: 12 سال پرانا خط منظر عام پر، اصلاحات اور شفافیت پر زور
Allah Bux SoomroStaff Reporter
Nov 25, 2025 · 6:34 PM

سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے ارکان کے انتخاب سے متعلق 12 سال پرانا سرکاری خط ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ خط 2013 میں اُس وقت کے سیکریٹری سروسز آصف حیدر شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کیا تھا، جس میں کمیشن کی فعالیت، شفافیت اور ارکان کے انتخاب کے معیار پر تفصیلی تجاویز دی گئی تھیں۔
سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے ارکان کے انتخاب سے متعلق 12 سال پرانا سرکاری خط ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ خط 2013 میں اُس وقت کے سیکریٹری سروسز آصف حیدر شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کیا تھا، جس میں کمیشن کی فعالیت، شفافیت اور ارکان کے انتخاب کے معیار پر تفصیلی تجاویز دی گئی تھیں۔
خط میں واضح کیا گیا کہ SPSC صوبے کے پبلک سیکٹر میں بھرتیوں کا سب سے اہم ادارہ ہے، جس میں ایک چیئرمین اور دس ارکان شامل ہوتے ہیں۔ تاہم جون 2013 کے بعد صرف تین ارکان باقی رہ گئے تھے، کیونکہ دیگر ارکان اپنی مدت مکمل کر کے سبکدوش ہو چکے تھے۔ اس کمی کے باعث امتحانات اور مقابلہ جاتی عمل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں۔
چیف سیکریٹری نے زور دیا کہ نئے ارکان کے انتخاب میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، دیانتداری اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ارکان ایسے افراد میں سے منتخب کیے جائیں جو نہ صرف قابل اعتماد ہوں بلکہ مستقبل میں پبلک سیکٹر کے اہم عہدوں کے لیے امیدواروں کی جانچ کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھا سکیں۔
خط میں خواتین کی شمولیت کو بھی ضروری قرار دیا گیا تاکہ کمیشن میں تنوع اور نمائندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ مزید برآں، 2004 کے پی سی ایس امتحانات میں سامنے آنے والے تنازعات کی یاد دہانی کراتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو کمیشن اپنی ساکھ کھو سکتا ہے۔
سیکریٹری سروسز نے سفارش کی کہ یہ تجاویز ترجیحی بنیادوں پر وزیراعلیٰ سندھ کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ادارے کی بحالی اور صوبے کے پبلک سیکٹر کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
