ڈپریشن کا خاتمہ کیسے ممکن؟

ڈپریشن کی نمایاں علامات کونسی؟
ڈپریشن یا افسردگی آج دنیا بھر میں ایک سنگین اور عام بیماری کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اگر امید اور آس نہ ہو تو یہ کیفیت انسان کو جینے نہیں دیتی۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن کا شکار شخص اکثر مایوس، اداس، رنجیدہ، ناامید، زندگی سے بیزار اور احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی انسان کو متاثر کرتی ہے۔
ڈپریشن کی علامات
بلاوجہ خوف اور بے چینی، بھوک کا کم یا زیادہ ہونا، قوتِ فیصلہ سے محرومی، جسم کے مختلف حصوں میں درد، خود کو اکیلا اور تنہا محسوس کرنا، خودکشی کے خیالات کا جنم لینا، معمولی باتوں پر غصہ یا رونا، دوستوں اور رشتہ داروں سے دوری۔
یہ تمام علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فرد ڈپریشن یا اضمحلال کا شکار ہے۔

بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن
امریکی ادارہ Center for Disease Control and Prevention (CDC) کے مطابق تقریباً 7.6 فیصد بچے بارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں:
اسکول جانے کی فکر، استاد یا بڑوں کا ڈر، گھریلو پیار سے محرومی، بچپن کی خواہشات ادھوری رہ جانا
یہ عوامل بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔

خواتین میں ڈپریشن
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ مردوں کی نسبت خواتین زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس کی بڑی وجوہات میں: تفریح کی کمی، یک طرفہ حقوق، حد سے زیادہ ذمہ داریاں۔
یہ عوامل خواتین کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر تصور حسین مرزا کے مطابق ناامیدی، مایوسی، پریشانی اور اداسی کو ایک ہی مرض سمجھنا غلط نہیں ہوگا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ڈپریشن کا مریض خود کو مریض تصور ہی نہیں کرتا۔ اگر علامات کو نظر انداز کیا جائے تو مریض زیادہ سنگین ذہنی عوارض کا شکار ہوسکتا ہے۔

ڈپریشن کی نمایاں علامات
1. اُداسی
مسلسل اداسی ڈپریشن کی اہم علامت ہے۔ ایسے افراد میں خودکشی کے خیالات عام ہوتے ہیں۔
2. نیند کی کمی یا زیادتی
بہت زیادہ سونا یا بہت کم سونا دونوں ہی ڈپریشن کی علامات ہیں۔ مریض اکثر رات کو اچانک جاگ اٹھتے ہیں اور ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔
3. بھوک میں کمی یا زیادتی
ڈپریشن سے بھوک متاثر ہوتی ہے۔ کبھی مریض ضرورت سے زیادہ کھاتا ہے اور کبھی بالکل کم۔ اس سے وزن میں کمی یا موٹاپا پیدا ہوسکتا ہے۔
4. ذہنی کمزوری
ڈپریشن کے شکار افراد دماغی طور پر سستی کا شکار ہوتے ہیں۔ بھولنے کی عادت، توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اور فیصلوں پر پچھتاوا عام ہے۔
5. جسمانی علامات
پیٹ درد، سردرد اور سینے میں کھنچاؤ بھی ڈپریشن کی جسمانی علامات ہیں۔
6. ناامیدی
مریض ہر چیز میں امید کھو دیتا ہے اور ماضی کی غلطیوں پر پچھتاوا بڑھ جاتا ہے۔
7. دلچسپی ختم ہونا
روزمرہ معاملات میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ مریض محبت اور پیار سے دور ہوجاتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے۔

عالمی صورتحال
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک کی 34 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔ اکثر افراد اسے حالات یا کام کی زیادتی سمجھتے ہیں اور علاج نہیں کرواتے۔
علاج اور قدرتی تدابیر
ہلدی کا کمال
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ہلدی میں موجود سرکومن ڈپریشن کے علاج میں مؤثر ہے۔ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن (تقریباً دو چمچ ہلدی) کھانے سے وہی اثر ہوتا ہے جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن سے ہوتا ہے۔ ہلدی نہ صرف ڈپریشن بلکہ ذیابیطس، جلدی امراض اور ہڈیوں کی سوزش میں بھی فائدہ مند ہے۔
کھیل اور مثبت سرگرمیاں
ماہرین کے مطابق کھیل کود اور مثبت سرگرمیاں ڈپریشن کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مریض کو اکیلا نہ چھوڑا جائے، بری خبروں سے دور رکھا جائے اور خوشی کی باتیں کی جائیں۔
ڈپریشن ایک سنگین مگر قابلِ علاج بیماری ہے۔ اگر اس کی علامات کو بروقت پہچان لیا جائے اور مریض کو مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو وہ صحت یاب ہوسکتا ہے۔ امید اور آس ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔
