این ایف سی کے مسائل کا حل مخلصانہ بات چیت ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

صوبوں کا مؤقف سنا جائے گا
اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ نیشنل فنانشل کمیشن (این ایف سی) کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا حل صرف مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔
گیارہویں این ایف سی کا اجلاس وزیر خزانہ کی سربراہی میں ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا موقع ہے۔ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ 11ویں این ایف سی کا اجلاس بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو اور صوبے بھی اس ذمہ داری کو بروقت نبھانے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کے ساتھ کھلے ذہن اور بغیر تعصب کے بات چیت کی جائے گی اور سب کی پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہوگی۔ وفاقی حکومت صوبوں کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے موجود ہے اور امید ہے کہ صوبے بھی تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔
وزیر خزانہ نے صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط کو قابل قدر قرار دیا اور کہا کہ ملک کو اس سال بھارت کی جانب سے خطرات اور سیلاب جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن وفاق مضبوط اور متحد رہا۔ اسی جذبے کو این ایف سی کے معاملات میں بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
