اسلام آباد اور راولپنڈی میں پی ٹی آئی احتجاج سے پہلے دفعہ 144 نافذ

احتجاج، جلسے جلوس پر پابندی
اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج سے قبل دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج، جلسے یا جلوس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے تمام پارلیمنٹیرین منگل کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پر امن احتجاج کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد حکومتی اقدامات کے خلاف اپنی رائے کا پرامن اظہار ہے۔
اس احتجاج کا اعلان اتوار کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ انھوں نے خاص طور پر یہ واضح کیا کہ اس احتجاج میں صرف اراکین اسمبلی شریک ہوں گے اور عام کارکنان اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام اور شہریوں کی سلامتی کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ نے شہر کی اہم سڑکوں اور چوکیوں پر اضافی پولیس نفری بھی تعینات کر دی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد دونوں شہروں میں سیاسی ماحول متحرک ہو گیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس احتجاج کے حوالے سے تبادلہ خیال جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 نافذ کرنے کا مقصد امن و امان قائم رکھنا اور کسی بھی قسم کے تصادم یا ہنگامے سے بچنا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پرامن اور قانونی دائرے میں ہوگا۔
