صدی کے آخر میں 80 فیصد گلیشیر ختم ہوجائیں گے

کتنے فیصد گلیشیر پگھل چکے ہیں
دنیا بھر میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کی اہم وجہ گلیشیئر کا تیزی سے پگھلنے کے ساتھ ساتھ دوسری ماحولیاتی تبدیلیاں بھی بتائی جاتی ہیں،ایسے میں یورپ میں بھی پانی کے متعلق سنگین مسائل پیش آنے کے امکان اب واضح طور پر نظر آرہے ہیں کیونکہ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپ کے پہاڑی سلسلے الپس میں موجود گلیشیئرز صرف آٹھ سال کے اندر اپنے خاتمے کی بلند ترین رفتار تک پہنچ جائیں گے اور 2033 تک 100 سے زائد گلیشیئرز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔

ماحولیات کے شعبے سے وابسطہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانی کے مسائل کی صورتحال انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے معروف تحقیقی ادارے ETH زیورخ سے وابستہ گلیشیئر ماہر میتھیاس ہُس (Matthias Huss) کی قیادت میں بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ مغربی امریکا اور کینیڈا میں موجود گلیشیئرز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
تحقیق کے مطابق آئندہ ایک دہائی کے بعد ہر سال 800 سے زائد گلیشیئرز کے ختم ہونے کا خدشہ ہے اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی بحران کی سب سے واضح علامتوں میں سے ایک ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تقریباً دو لاکھ گلیشیئرز موجود ہیں، تاہم ہر سال تقریباً 750 گلیشیئرز ختم ہو رہے ہیں، اگر فوسل فیول کے استعمال سے خارج ہونے والی گیسوں میں کمی نہ کی گئی اس رفتار میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتدار پر فائز حکومتوں کے موجودہ موسمیاتی منصوبے عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک لے جا سکتے ہیں،ایسے میں 2040 تک ہر سال تقریباً 3,000 گلیشیئرز ختم ہوجائیں گے اور یہ صورتحال 2060 تک برقرار رہ سکتی ہے،ایک اندازے کے مطاںق صدی کے اختتام تک آج کے 80 فیصد گلیشیئرز دنیا کے نقشے سے مٹ چکے ہوں گے۔
تحقیق کے مطاںق گلیشیئرز کو بچانے کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی کی جائے اور درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھا جائے تو گلیشیئرز کے نقصان کی شرح 2040 میں تقریباً 2,000 سالانہ تک محدود رہ سکتی ہے۔
سینئر سائنس دان میتھیاس ہُس کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کا خاتمہ صرف برف کے ذخائر کا نقصان نہیں بلکہ پانی کے وسائل، سیاحت، ماحولیاتی توازن اور ثقافتی ورثے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

تحقیق کے دوران سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے دنیا بھر کے دو لاکھ سے زائد گلیشیئرز کا تجزیہ کیا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو گلیشیئرز کے خاتمے کے اثرات پانی کی قلت، زرعی مسائل، سیلاب اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
ماہرینِ ماحولیات نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں، کیونکہ آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کے قدرتی وسائل اور بقا کا تعین کریں گے۔
