نیشنل
کارونجھر کی کٹائی، حکومت سندھ کی یقین دہانی، وکلا کا احتجاج ختم
StaffStaff Reporter
Nov 26, 2025 · 2:25 PM

تھرپارکر میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے خلاف کراچی کے وکلا نے بھرپور احتجاج کیا
کراچی: تھرپارکر میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے خلاف کراچی کے وکلا نے بھرپور احتجاج کیا۔ وکلا نے سندھ ہائی کورٹ سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک ریلی نکالی، جس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی۔ ریلی کے شرکاء جب پی آئی ڈی سی چوک پہنچے تو پولیس اور وکلا کے درمیان دھکم پیل ہوئی، بعض وکلا کنٹینر پر چڑھ گئے اور نعرے بازی کی۔ اس دوران شارع فیصل سمیت مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک شدید متاثر رہا۔
وکلا کے وفد نے بعد ازاں صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات ناصر حسین شاہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وکلا نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا، جس میں کارونجھر پہاڑ کی کٹائی روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے مطالبات شامل تھے۔ ناصر حسین شاہ نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت کارونجھر کے معاملے پر وکلا کے ساتھ ہے اور دیگر مسائل پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کیرتھر کے علاقے میں کوئی مائننگ ہورہی ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مذاکرات کے بعد وکلا نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور ریلی پرامن طور پر منتشر ہوگئی۔ اس احتجاج کو ماحولیاتی تحفظ اور عوامی دباؤ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس نے سندھ حکومت کو پہاڑوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
