سڈنی دہشتگردی: حملہ آور کو قابو کرنے والے پھل فروش مسلم نوجوان پر لاکھوں ڈالرز کی برسات

امریکی تاجر کا ایک لاکھ ڈالر دینے کا اعلان
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں دہشت گرد حملہ آور کو اپنی جان پر کھیل کر قابو کرنے والے شامی نژاد مسلمان احمد الاحمد پر انعامات اور تعریفوں کی بارش ہو رہی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق 43 سالہ پھل فروش احمد الاحمد نے حملہ آور کو روکنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی اور کئی افراد کی زندگیاں بچائیں۔ اس جرات مندانہ اقدام نے انہیں نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا بھر میں ایک انٹرنیشنل ہیرو بنا دیا۔
ان کی بہادری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم اور آسٹریلوی وزیراعظم سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے سراہا۔ صدر ٹرمپ نے کہا: "اس شخص نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بے شمار لوگوں کو بچایا، یہ حقیقی بہادری کی مثال ہے۔"
احمد الاحمد کی دلیری کو مزید خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک معروف امریکی ارب پتی تاجر نے ایک لاکھ امریکی ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر کوئی احمد کے بارے میں مصدقہ اطلاع دے تو انعام فوراً پہنچایا جائے گا۔ چند ہی گھنٹوں بعد وہ اسپتال پہنچے، احمد سے ملاقات کی اور انعام دینے کا وعدہ کیا۔
اس کے علاوہ عوام نے بھی احمد کی مدد کے لیے آن لائن فنڈ ریزنگ مہم شروع کی، جس میں اب تک 10 لاکھ ڈالر سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے۔ یہ رقم احمد کے علاج اور مستقبل کے لیے مختص کی جائے گی۔
حملہ آور کو قابو کرنے کی کوشش میں احمد الاحمد کے بازو اور ہاتھ میں گولیاں لگیں۔ انہیں فوری طور پر سینٹ جارج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سرجری کی گئی۔ ڈاکٹرز کے مطابق احمد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم مزید آپریشنز کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
