انٹرنیشنل
12 ہزار سال بعد آتش فشاں پھٹ گیا
Staff ReporterStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 10:25 PM

ایثوپیا کے شمال مشرقی علاقے افار ریجن میں واقع ہیلی گبی آتش فشاں نے تقریباً 12,000 سال بعد پہلی بار پھٹ کر دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ آتش فشاں اتوار کے روز کئی گھنٹوں تک متحرک رہا، اور اس دوران 14 کلومیٹر (9 میل) بلند دھوئیں اور راکھ کے بادل فضا میں بلند ہوئے، جو بحرِ احمر عبور کرتے ہوئے یمن اور عمان تک پہنچ گئے۔
ایثوپیا کے شمال مشرقی علاقے افار ریجن میں واقع ہیلی گبی آتش فشاں نے تقریباً 12,000 سال بعد پہلی بار پھٹ کر دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ آتش فشاں اتوار کے روز کئی گھنٹوں تک متحرک رہا، اور اس دوران 14 کلومیٹر (9 میل) بلند دھوئیں اور راکھ کے بادل فضا میں بلند ہوئے، جو بحرِ احمر عبور کرتے ہوئے یمن اور عمان تک پہنچ گئے۔
یہ آتش فشاں عدیس ابابا سے تقریباً 500 میل شمال مشرق میں واقع ہے، اور اریٹیریا کی سرحد کے قریب ہے۔ اس کی غیر متوقع سرگرمی نے ماہرینِ ارضیات اور مقامی آبادی کو حیرت میں ڈال دیا۔
ارضیاتی اہمیت
ہیلی گبی آتش فشاں ایسٹ افریقن رفٹ ویلی میں واقع ہے، جو زمین کے سب سے زیادہ فعال ارضیاتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں افریقی اور عربی ٹیکٹونک پلیٹس ایک دوسرے سے الگ ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں گہری دراڑیں اور آتش فشانی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ پھٹاؤ ہمیں رفٹ ویلی کی اندرونی حرکیات کو سمجھنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق، اس پھٹاؤ کے دوران 58.4 کلوٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی، جو ایک طاقتور دھماکہ خیز سرگرمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مقامی اثرات
قریبی دیہات، خاص طور پر افدیرا، آتش فشانی راکھ سے ڈھک گئے۔ مقامی منتظم محمد سعید نے بتایا کہ ابھی تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن مویشی پالنے والے افراد کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ چراگاہیں راکھ سے بھر گئی ہیں۔
"ابھی تک انسانی جانوں یا مویشیوں کا نقصان نہیں ہوا، لیکن دیہات راکھ سے ڈھک گئے ہیں اور جانوروں کے لیے خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔" — محمد سعید
حکومت اور علاقائی حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور ماحولیاتی و معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی اثرات
راکھ کے بادلوں نے عرب خطے اور جنوبی ایشیا میں ہوائی سفر کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ کئی پروازوں کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا، جن میں کَنور سے ابوظہبی جانے والی انڈیگو پرواز بھی شامل ہے۔
سائنسی موقع
ہیلی گبی کا پھٹاؤ ماہرینِ ارضیات کے لیے ایک نایاب موقع ہے۔ اب محققین راکھ کی ساخت، گیسوں کے اخراج اور زلزلہ خیزی کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ آتش فشاں کی اندرونی بناوٹ اور مستقبل کی سرگرمیوں کو سمجھا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مشرقی افریقہ میں موجود خاموش آتش فشاں بھی خطرناک ہو سکتے ہیں، اور ان کی نگرانی ناگزیر ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
