کندھ کوٹ میں جائیداد کے تنازع پر ملزم نے سوتیلے بھائی اور معصوم بھتیجے کو جلا کر مار ڈالا

کندھ کوٹ: سندھ کے ضلع کندھ کوٹ میں باپ بیٹے کے قتل واقعے نے نیا رخ لے لیا۔ پولیس کے سامنے گرفتاری پیش کرنے والے ملزم ذیشان گولو کے اعترافی بیان میں دل دہلانے والے انکشافات سامنے آئے۔
چار روز قبل کندھ کوٹ میں کالیج کے قریب ایک کار لاوارث حالت میں پائی گئی، بعد ازاں پولیس نے کار کے مالک عارف گولو کا پتہ لگایا۔ اطلاع ملنے پر ورثا نے عارف گولو اور اس کے بیٹے اشر کے اغوا کا شک ظاہر کرتے ہوئے بازیابی کے لیے احتجاج کیا۔
پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد اغوا کی رپورٹ درج کی اور تفتیش شروع کردی۔ تاہم دوران واقعے کی تفتیش نے اس وقت رخ بدل لیا جب مقتول عارف کے سوتیلے بھائی ذیشان گولو نے پولیس کے سامنے گرفتاری پیش کی۔

مقتول عارف گولو کی تصویر
ون فائیو انچارج خلیل لغاری کے مطابق مرکزی ملزمان ذیشان نے تھانے میں آکر گرفتاری پیش کی، دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے جائیداد کے تنازع پر سوتیلے بھائی 40 سالہ عارف گولو اور چودہ سالہ بیٹے اشر گولو (ملزم کا سوتیلہ بھتیجا) کو گھر میں زندہ جلاکر مار دیا ہے۔ بعد میں ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ ملکر گھر میں مقتولین کی ہڈیاں چھپا دیں تھیں، جو کہ ملزم کی نشاندہی سے برآمد کرلی گئی ہیں۔

مقتول اشر گولو کی تصویر

ملزم ذیشان کی تصویر
پولیس کے مطابق ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران شریک ملزمان دو خواتین اور دو نوجوانوں کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔
کندھ کوٹ پولیس کے مطابق مقتولین کے ورثا سے رابطہ جاری ہے، ابتدائی طور پر واقعہ ملکیت کے تنازع پر پیش آیا ہے۔ تاہم ملزمان سے مختلف پہلوؤں میں تفتیش جاری ہے۔
