انسان نے آگ جلانا کب سیکھا؟ نئی تحقیق میں نئے انکشافات

ماہرین کیا کہتے ہیں
انسانوں نے آگ جلانا ساڑھے 4 لاکھ سال پہلے سیکھی،نئی تحقیق میں انکشاف
انگلینڈ:برطانیہ کے ماہرین آثار قدیمہ نے ایک نئی دریافت سے معلوم کیا ہے کہ قدیم نسل کے انسان نے آج سے تقریباً 400,000 سال قبل آگ جلانا سیکھ لیا تھا، جو اب تک کے اندازوں سے تقریباً 350,000 سال پہلے کی بات ہے اور یہ دریافت انسان کی ابتدائی زندگی، شکار اور کھانا پکانے کی مہارت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
برطانیہ کے شمال مشرقی صوبے سفولک کے برنہم کے علاقے میں محققین نے کھدائی کے دوران جلی ہوئی ہڈیاں، کوئلے کے آثار، اور پتھروں پر انسانی اثرات دریافت کیے۔
محققین کے مطابق یہ شواہد بتاتے ہیں کہ انسان ابتدائی طور پر آگ استعمال کر کے شکار کے گوشت کو پکانے، سردی سے بچنے اور شکاری جانوروں سے حفاظت کرنے کے لیے آگ کا استعمال کرتے تھے۔
نیچرل ہسٹری میوزیم برطانیہ کی تحقیقی سربراہ ڈاکٹر سارہ جینسن نے کہا یہ دریافت میرے چالیس سالہ کیریئر کی سب سے دلچسپ ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ نیاندرتھلز(قدیم انسانی نسل) نہ صرف آگ استعمال کر سکتے تھے بلکہ اسے بنانا بھی جانتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی دماغ اور تکنیکی مہارتوں کی ترقی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ ابتدائی آگ کے استعمال سے انسانوں نے نہ صرف زندہ رہنے میں مدد حاصل کی بلکہ اپنے ماحول پر قابو پانے کی صلاحیت بھی بڑھائی۔ یہ دریافت انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور ابتدائی سائنس کے شواہد کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آگ کے ابتدائی استعمال نے انسانی زندگی کو آسان بنایا اور انہیں سرد موسم میں زندہ رہنے میں مدد دی،شکار کے گوشت کو پکانے سے انسانی غذا میں تنوع آیا اور غذائی اجزاء بہتر طریقے سے دستیاب ہوئے،یہ شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انسان قدیم زمانے سے ہی اپنے ماحول کو بہتر بنانے اور جدت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے،یہ دریافت انسانی تاریخ اور ارتقاء کی تفہیم میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ انسان صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ماحول کو کنٹرول کرنے اور زندگی آسان بنانے کے لیے ابتدائی سائنسی مہارتیں بھی استعمال کر رہے تھے۔
