مقبوضہ کشمیر سے پنڈتوں کو مسلمانوں نے نہیں نکالا تھا: کشمیری خاتون پنڈت نے بھارت کی سازش کا پردہ چاک کردیا

سازش کا اصل مقصد کیا تھا؟
کشمیری پنڈت خاتون اور سماجی کارکن دیپیکا پشکرناتھ نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیری عوام کی شناخت چھین لی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 1990ء میں کشمیری پنڈتوں کی وادی سے بے دخلی دراصل ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تاکہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کی جا سکے اور انہیں آپس میں لڑوایا جا سکے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق معروف کشمیر وکیل رہنما اور سماجی
کارکن کشمیری خاتون پنڈت دیپیکا پشکرناتھ نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ مسلمانوں نے
پنڈتوں کو نکالا، محض ایک پروپیگنڈا تھا، حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔
دیپیکا پشکرناتھ نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی کشمیری پنڈتوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتی تو ان کی نقل مکانی کو روک سکتی تھی، کیونکہ کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی روکنے کا اختیار بھی حکومت کے پاس تھا لیکن بھارتی حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
