برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں ’ i am terrorist‘ ویڈیو مہم نے تنازع کھڑا کردیا

انوکھی ’ویڈیو مہم‘ کا اصل مقصد کیا؟
برطانیہ میں Palestine Action کی حمایت کرنے والے کچھ کارکنوں نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں کہا جا رہا ہے ’I am a terrorist‘ ویڈیو مہم کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ممنوعہ قرار دیے جانے والے اس گروپ پر عائد پابندی ختم کی جائے۔
حکام کے مطابق کچھ روز قبل برطانوی پولیس نے چند مشہور اسکاٹش پوڈکاسٹرز اور Palestine Action کے حامیوں کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ممنوعہ گروپ کی حمایت کی اور سرکاری پابندی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
گرفتار شدگان کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات چلائے گئے ہیں۔ گرفتاریاں اور ویڈیو مہم نے برطانیہ بھر میں سیاسی اور قانونی تنازع پیدا کر دیا۔
برطانوی حکومت نے اس سال Palestine Action کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور ان کے خلاف کارروائی شروع کی۔ گروپ اور حمایتی اس پابندی کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ تنظیم ریاستی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہے۔
عدالتیں فیصلہ کر رہی ہیں کہ آیا پابندی قانونی تھی یا نہیں، اور اس دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں آزادی اظہار اور انسداد دہشت گردی قوانین کے درمیان جاری بحث کو نئی جہت دے رہا ہے۔ ویڈیوز، گرفتاریوں اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات نے عوامی اور سیاسی سطح پر شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔
Palestine Action کے حامیوں کی ویڈیو مہم اور حکومت کی کارروائی نے ایک نیا سیاسی اور قانونی بحران پیدا کر دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں عدالتوں کے فیصلے اور سرکاری ردعمل اس بحث کی سمت متعین کریں گے اور برطانیہ میں آزادی اظہار کے حدود اور دہشت گردی کے خلاف قوانین پر توجہ مرکوز ہوگی۔
