کچھ وزرا سوچ رہے ہیں صوبوں سے وسائل لیے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

جو کہتے ہیں آئینی تریم غلط ہے وہ این آئی سی وی ڈی کو دیکھ لیں
کچھ وزرا سوچ رہے ہیں صوبوں سے وسائل لیے جائیں، بلاول بھٹو زرداری
وفاق کے مزید ٹیکس وصول کرنے کے لیے تیار ہیں
صوبائی خود مختیاری کے لیئے ضروری ہے صوبوں پر بھروسہ کیا جائے
کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ وزراء سوچ رہے ہیں کہ صوبوں سے وسائل لیے جائیں، صوبوں کو فنڈز منتقل ہوئے تو یہ سب کچھ ممکن ہو سکا ہے۔ این آئی سی وی ڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این آئی وی سی ڈی کی بہتری کا آغاز ڈی ویلیوشن کے بعد ہوا، 2017 سے سندھ حکومت نے اس کا کنٹرول سنبھالا اور اب نہ صرف کراچی کے لوگوں کا معیاری علاج ہوتا ہے، بلکہ ہر ضلع میں چیسٹ پین یونٹ بھی کھولے گئے، کراچی میں 19 چیسٹ پین یونٹ کام کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے بعد این آئی سی وی ڈی کا سب سے بڑا مرکز سکھر میں ہے، یہ دنیا میں سب سے بڑا صحت کا ادارہ بن چکا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں اٹھارویں ترمیم غلط ہے تو وہ این آئی سی وی ڈی کو دیکھ لیں، ڈی ویلیوشن کے بعد جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ بڑے اسپتال بن گئے، صوبوں کو فنڈز منتقل ہوئے تو یہ سب کچھ ممکن ہو سکا ہے۔ کراچی دنیا کا واحد شہر ہے، جہاں سائبر نائف کا مفت اسپتال ہے، جناح اسپتال میں سائبر نائف کا علاج ہوتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کہا کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے یہ ادارہ چلا سکتے ہیں، جب ہم آئے تو بتایا گیا وفاق دیوالیہ ہوگیا۔ کچھ وزراء سوچ رہے ہیں کہ صوبوں سے وسائل لیے جائیں، وفاق ہم سب کا ہے اور ہم سب پاکستانی ہیں۔ وفاق نے جس طرح سیلز ٹیکس کی وصولی صوبوں کو منتقل کی، اس کے بعد صوبہ سندھ نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی، ٹیکس وصولی میں صوبے ایف بی آر کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ ہم وفاق کے مزید ٹیکس وصول کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ صوبہ سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز وصول کرنے کو تیار ہیں، اس وصولی کا وفاق کو دیں گے اور اگر صوبہ سندھ ٹارگٹ پورا نہ کرے تو آپ پیسہ نہ دیں۔ صوبائی خود مختیاری کے لیئے ضروری ہے کہ صوبوں پر بھروسہ کیا جائے۔
