ایس ایچ او پنوعاقل شکور لاکو نے بیٹے کی شادی میں انعام یافتہ ڈاکوؤں کو مدعو کیا: سردار شہریار شر کے سنگین الزامات

ایم پی اے نے عدالت میں درخواست دائر کردی
سندھ ہائی کورٹ میں سابق پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سردار شہریار خان شر نے ایس ایچ او پنوعاقل شکور لاکھو کے خلاف آئینی درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شکور لاکھو پر دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شکور لاکھو نے اپنے بیٹے کی شادی میں انعام یافتہ ڈاکوؤں کو مدعو کیا، ان کی وڈیوز عوامی طور پر ریکارڈ کرائیں۔

درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شکور لاکھو نے قبائلی نوعیت کی پرائیویٹ فورس قائم کی، جس کے بارے میں پہلے ایس ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ بھیجی تھی، مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
سردار شہریار شر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ شکور لاکھو کو کسی بھی عہدے یا ذمہ داری پر تعینات نہ کیا جائے اور درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔
ان کے وکیل کوثر شر نے کہا کہ انہوں نے دو الگ الگ درخواستیں داخل کی ہیں اور عدالت میں وہ وڈیوز بھی پیش کریں گے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انعام یافتہ ڈاکو شادیاں میں شریک تھے، جن میں سے کچھ لوگ روپوش ہیں۔ وکیل نے کہا کہ شکور لاکھو ایک مجرم نوعیت کا شخص ہے اور ایسے شخص کو عہدے پر کیسے مقرر کیا گیا؟
میڈیا سے گفتگو میں شہریار شر نے کہا کہ شکور لاکھو نے پہلے بھی مجھ پر حملہ کرایا تھا، جس سے مجھے جان کا خطرہ ہے۔ پولیس میں ایسے کچھ افراد پورے ادارے کو بدنام کر رہے ہیں۔ صدرمملکت، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر کو خط لکھا ہے کہ شکور لاکھو کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
