دہلی کی فضا زہر الود، لاکھوں افراد سانس کی بیماریوں میں مبتلا

ایئر کوالٹی انڈیکس بدتر کیوں؟
دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پچھلے تین برسوں کے دوران سانس کی بیماریوں کے دو لاکھ سے زائد کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھ بڑے ہسپتالوں میں 204,758 مریض رجسٹر ہوئے، جن میں سے 30 ہزار سے زیادہ کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ سال 2022 میں 67,054، 2023 میں 69,293 اور 2024 میں 68,411 کیسز رپورٹ ہوئے، جو شہر کی زہریلی فضا کے صحت پر منفی اثرات کا واضح اندازہ دیتے ہیں۔
نئی دہلی کو عالمی سطح پر دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اور تازہ ترین رپورٹس کے مطابق یہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (ہوا کی معیار کی درجہ بندی) 400 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ حد سے بہت زیادہ ہے۔ آلودگی کی اہم وجوہات میں گاڑیوں اور بھاری ٹریفک سے خارج ہونے والا دھواں، صنعتی کارخانوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والی آلودگی، تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والا ملبہ اور گرد، اور کھیتوں کی باقیات جلانے (Stubble burning) سے پیدا ہونے والا دھواں شامل ہیں۔
سردیوں میں ہوا کی روانی کم ہونے کی وجہ سے یہ زہریلے ذرات طویل عرصہ تک فضا میں رہ جاتے ہیں، جس سے سانس کی بیماریاں اور پھیپھڑوں کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور شہری دن بہ دن زہریلی فضا کے اثرات محسوس کر رہے ہیں، جس کے سبب دمہ، سانس کی دیگر بیماریاں اور دل کی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت اور بین الاقوامی ادارے کوششیں کر رہے ہیں، مگر ابھی تک ایسی مؤثر حکمت عملی نہیں بن سکی کہ آلودگی اور اس کے صحت پر اثرات میں خاطر خواہ کمی آ جائے۔
