یورپی یونین نے ’ایکس‘ پر 12 کروڑ یورو کا جرمانہ لگا دیا، مگر کیوں؟

امریکہ سے تعلقات میں کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے
یورپی یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر شفافیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی پر 12 کروڑ یورو کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم نے متعدد اہم قواعد کی خلاف ورزی کی، جن میں صارفین کے اکاؤنٹس کی توثیق کا گمراہ کن طریقہ، محققین سے ضروری ڈیٹا چھپانا اور اشتہارات سے متعلق واضح معلومات فراہم نہ کرنا شامل ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق ایکس نے بلو ٹک پروگرام کے ذریعے اکاؤنٹ ویری فکیشن کو اس انداز میں پیش کیا جو صارفین کو غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے، جبکہ پلیٹ فارم پر دکھائے جانے والے اشتہارات سے متعلق شفافیت بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھی۔ کمیشن نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ DSA کے تحت کی گئی ہے۔
ایکس انتظامیہ کے پاس اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا موقع موجود ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع بالآخر یورپی عدالتِ انصاف ECJتک پہنچ سکتا ہے۔
جرمانے کے اعلان نے یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ، "یورپی یونین کو آزادی اظہار کا احترام کرنا چاہیے، نہ کہ امریکی کمپنیوں پر بے بنیاد الزامات لگا کر کارروائیاں کی جائیں۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی یورپی ڈیجیٹل قوانین کو غیر مسابقتی قرار دے چکے ہیں۔
یورپی یونین کا دعویٰ ہے کہ DSA کا مقصد صارفین کے تحفظ اور آن لائن پلیٹ فارمز کی جوابدہی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سخت ضابطے امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
