انٹرنیشنل
قدیم روم کے فوجی افسران ’بھارتی بندر‘ کیوں پالتے تھے؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
EditorStaff Reporter
Dec 14, 2025 · 11:48 AM

بندروں کو شاہی حیثیت حاصل تھی
دنیا بھر میں عیش و عشرت کے قصے بھرے پڑے ہیں لیکن قدیم رومی فوجی افسران کا ایک نیا قصہ اپنی مثال آپ ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق میں قدیم مصر میں تعینات رومی فوجی افسران کی عیش و عشرت سے بھرپور زندگی کے ایک حیران کن پہلو سے پردہ اٹھا گیا ہے۔
سائنسی ماہرین آثار قدیمہ کی جنرل آف رومن آرکیالونی میں شایع تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رومی افسران اپنی دھن دولت، طاقت اور سماجی حیثیت کا کھلے عام اظہار کرنے تھے اور اس کے لیے وہ کے بھارت سے درآمد کیے گئے پالتو بندر پالا کرتے تھے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تحقیق میں یہ بھی بتایا ہے کہ مصر کے قدیم بندرگاہی شہر بیرینیکی میں کھدائی کے دوران یہ تحقیق سامنے آئی۔
ماہرین کے مطابق کھدائی کے دوران درجنوں بندروں کی باقیات ملی ہیں، جن پر تحقیق کی گئی اور ثابت ہوا ہے کہ یہ بندر مقامی نہیں بلکہ بھارتی مکاک نسل سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ہزاروں میل دور بھارت سے یہاں لائے گئے تھے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان بندروں کے ساتھ خصوصی تدفین، گردنوں میں پہنائے گئے کالر اور دیگر قیمتی اشیا بھی ملی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں صرف پالتو جانور ہی نہیں بلکہ شاہی حیثیت حاصل تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں نایاب اور غیر ملکی جانور رکھنا رومی اشرافیہ کے لیے فخر اور امتیاز کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض بندروں کو انسانوں کی طرح باقاعدہ قبروں میں دفن کیا گیا، جبکہ کچھ کے ساتھ بلیوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کی باقیات بھی ملی ہیں، جو ان کے ساتھ گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف رومی افسران کے طرزِ زندگی کو اجاگر کرتی ہے بلکہ قدیم دنیا میں بھارت اور رومی سلطنت کے درمیان زندہ جانوروں کی تجارت کے مضبوط شواہد بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ دریافت قدیم تجارتی راستوں، ثقافتی میل جول اور انسان و جانور کے تعلق کے ایک انوکھے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
