60ملین برس قبل دو ٹانگوں پر چلنے والی مخلوق کون تھی؟ نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

نیویارک یونیورسٹی کی تحقیق میں انسان کے قدیم ترین آباد و اجداد کی تلاش میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سائنسدانوں نے انسان کی ارتقاء (evolution) کے بارے میں ایک نئی تحقیق کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً سات ملین سال پہلے کی ایک انسان نما مخلوق، دو ٹانگوں پر چلنے کی صلاحیت رکھتی تھی اور یہ انسانوں کے ممکنہ قدیم ترین آبا و اجداد (ancestor) ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق نیویارک یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جس کی قیادت ڈاکٹر اسکاٹ ولیمز کر رہے ہیں۔ تحقیق میں Sahelanthropus tchadensis نامی تقریبا سات ملین سال پرانی ہڈیوں کا جدید انداز میں تجزیہ کیا گیا۔
سائنسدانوں کے مطابق ہڈیوں کی بناوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مخلوق زمین پر کھڑے ہو کر چلنے کی صلاحیت رکھتی تھی، جو انسان کے ارتقائی سفر کا اہم قدم ہے۔
تاہم ماہرین میں اس بات پر مکمل اتفاق نہیں ہے کہ یہ نوع واقعی انسان کی سیدھی لائن میں شامل تھی یا نہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف چند ہڈیوں کی بنیاد پر ایسا کہنا قبل از وقت ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں مزید فوسلز درکار ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ ہڈیاں انسانی ارتقاء کی تاریخ میں دو ٹانگوں پر چلنے کے ابتدائی آثار فراہم کرتی ہیں، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انسان اور انسان نما مخلوقات کے درمیان تعلق کس طرح تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مزید کھدائی اور تحقیق کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ Sahelanthropus tchadensis واقعی انسان کے قدیم ترین ancestor میں سے تھی یا نہیں۔
