جسٹس طارق محمد جہانگیر کا اعتراض مسترد، چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کا کوئی قانونی جواز نہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کا ڈگری کیس میں چیف جسٹس پر اعتراض مسترد کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ڈگری کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا، جس کے تحت عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے دو اعتراضات مسترد کردیے۔
جسٹس طارق جہانگیری کا سنگل کی بجائے ڈویژن بنچ بنانے پر عائد کیا گیا اعتراض مسترد کردیا گیا۔ تحریری حکمنامنے کے مطابق ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں، معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اختیار کے تحت 2 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، جبکہ بنچز کی تشکیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے۔
عدالت نے اپنےحکمنامےمیں کہا کہ خصوصی بنچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ہے، جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جسٹس جہانگیری سمیت ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کیخلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی ہے۔
حکمنامے کے مطابق جج پر تعصب کی بنیاد پر بنچ سے علیحدگی کے اصول پر اعلی عدلیہ کے متعدد فیصلے موجود ہیں، اعلیٰ عدلیہ 1966 سے لیکر 2023 تک کے فیصلوں میں جج پر اعتراض کے اصول واضح کر چکی ہے، جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر اعتراض کی ایک بھی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے جسٹس جہانگیری کو درخواست کا ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ جسٹس جہانگیری کو یونیورسٹی کا جمع کرایا گیا مکمل جواب اور ریکارڈ بھی دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے اعلاہ عدالت نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی کیس میں فریق بننے کی استدعا بھی مسترد کردی۔ عدالتنےکہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کو لازمی سنا جائیگا۔
