یورپ کے لاکھوں شہری فلو کی نئی قسم سے متاثر: WHOنے خبردار کردیا

27ممالک کے نظام صحت پر دباؤ بڑھ گیا
جنیوا:عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فلو کی ایک نئی اور تیزی سے پھیلنے والی قسم نے یورپ بھر میں صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ اس وائرس کا نام Influenza A (H3N2) sub-clade K ہے، جو اس وقت یورپ میں فلو کے زیادہ تر مریضوں میں پایا جا رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فلو کا یہ موسم معمول سے کئی ہفتے پہلے شروع ہوا، جس کے باعث اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ وائرس یورپ کے کم از کم ستائیس ممالک میں پھیل چکا ہے، جن میں برطانیہ، آئرلینڈ، سربیا، سلووینیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
ادارۂ صحت کے مطابق اس فلو کی عام علامات میں تیز بخار، نزلہ، کھانسی، گلے میں درد، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، شدید تھکن اور بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری شامل ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یورپ میں فلو کے تقریباً نوے فیصد مریض اسی نئی قسم سے متاثر ہیں، جس کے باعث ہزاروں افراد کو اسپتالوں میں داخل کرنا پڑا ہے۔ کئی ممالک میں ہنگامی شعبے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ طبی عملے پر بھی غیر معمولی بوجھ پڑ گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ فلو سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو تیز کیا جائے، عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں افراد کو گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا جائے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں فلو کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
